السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3535. -- باب: مبتدأ الخلق
-- باب: تخلیق (کائنات) کی ابتدا کا بیان۔
حدیث نمبر: 17710
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزِيدٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ، وَيَحْيَى بْنُ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ فَيْرُوزَ الدَّيْلَمِيُّ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، إِلَى أَنْ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ اللهَ" خَلَقَ خَلْقَهُ فِي ظُلْمَةٍ، ثُمَّ أَلْقَى عَلَيْهِمْ مِنْ نُورِهِ، فَمَنْ أَصَابَهُ مِنْ ذَلِكَ النُّورِ يَوْمَئِذٍ شَيْءٌ اهْتَدَى، وَمَنْ أَخْطَأَهُ ضَلَّ، فَلِذَلِكَ أَقُولُ جَفَّ الْقَلَمُ عَنْ عِلْمِ اللهِ"، ⦗٧⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: ثُمَّ أَبَانَ جَلَّ ثَنَاؤُهُ أَنَّ خِيرَتَهُ مِنْ خَلْقِهِ أَنْبِيَاؤُهُ، فَقَالَ: {كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً فَبَعَثَ اللهُ النَّبِيِّينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ} [البقرة: ٢١٣] ، فَجَعَلَ نَبِيَّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَصْفِيَائِهِ دُونَ عِبَادِهِ بِالْأَمَانَةِ عَلَى وَحْيِهِ وَالْقِيَامِ بِحُجَّتِهِ فِيهِمْ.
(١٧٧١٠) عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو اندھیرے میں پیدا کیا اور پھر ان پر اپنا نور ڈالا۔ جس کو اس دن اس نور میں سے کچھ مل گیا تو اس نے تو ہدایت پا لی اور جس کو یہ نور نہ ملا تو وہ گمراہ ہوگیا۔ اسی لیے میں کہتا ہوں کہ قلمیں لکھ کر خشک ہوگئی ہیں اللہ کے علم کے مطابق۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں: پھر اللہ عزوجل نے واضح کردیا کہ اس کی مخلوق میں سے بہترین مخلوق انبیاء ہیں جیسا کہ اس کا فرمان ہے: { کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً فَبَعَثَ اللّٰہُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ } [البقرۃ ٢١٣] کہ ”پہلے سب لوگ ایک ہی امت تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انبیاء کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجا“ پس اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے بندوں میں سے اپنی وحی پر امانت کے لیے اور ان میں اپنی حجت قائم کرنے کے لیے چن لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17710]
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں: پھر اللہ عزوجل نے واضح کردیا کہ اس کی مخلوق میں سے بہترین مخلوق انبیاء ہیں جیسا کہ اس کا فرمان ہے: { کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً فَبَعَثَ اللّٰہُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ } [البقرۃ ٢١٣] کہ ”پہلے سب لوگ ایک ہی امت تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انبیاء کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجا“ پس اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے بندوں میں سے اپنی وحی پر امانت کے لیے اور ان میں اپنی حجت قائم کرنے کے لیے چن لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17710]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ الديلمي»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 17710 in Urdu