السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3537. -- باب: مبتدأ الفرض على النبي صلى الله عليه وسلم ثم على الناس، وما لقي النبي صلى الله عليه وسلم من أذى قومه في تبليغ الرسالة على وجه الاختصار
-- باب: نبی ﷺ اور پھر لوگوں پر فرائض عائد ہونے کی ابتدا، اور نبی ﷺ کو تبلیغِ رسالت میں اپنی قوم کی طرف سے پہنچنے والی اذیتوں کا مختصر بیان۔
حدیث نمبر: 17725
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: ٢١٤] ، وَرَهْطَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ، خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى صَعِدَ الصَّفَا فَهَتَفَ" وَاصَبَاحَاهُ"، فَقَالُوا: مَنْ هَذَا الَّذِي يَهْتِفُ؟، قَالُوا: مُحَمَّدٌ، قَالَ: فَاجْتَمَعُوا إِلَيْهِ، فَقَالَ:" يَا بَنِي فُلَانٍ، يَا بَنِي فُلَانٍ، يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَرَأَيْتَكُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ خَيْلًا تَخْرُجُ بِسَفْحِ هَذَا الْجَبَلِ أَكُنْتُمْ مُصَدِّقِيَّ؟"، قَالُوا: مَا جَرَّبْنَا عَلَيْكَ كَذِبًا، قَالَ:" فَإِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٌ"، قَالَ: فَقَالَ أَبُو لَهَبٍ: تَبًّا لَكَ مَا جَمَعْتَنَا إِلَّا لِهَذَا، ثُمَّ قَامَ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: (تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَقَدْ تَبَّ) . كَذَا قَرَأَ الْأَعْمَشُ إِلَى آخِرِ السُّورَةِ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مُوسَى، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت ﴿وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ﴾ [سورة الشعراء: 214] نازل ہوئی کہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے اور ان میں سے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخلص جماعت ہے ان کو بھی، تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور صفا (پہاڑی) پر چڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «وَا صَبَاحَاهْ» ”ہائے صبح کا خطرہ (پکار)!“ کی زور دار آواز سے بلایا تو لوگوں نے کہا: یہ کون بلانے والا ہے؟ (بعض) نے کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تمام لوگ جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بنی فلاں! اے بنی فلاں! اے بنی عبد مناف! اے بنی عبدالمطلب! تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر میں تمہیں کہوں کہ اس پہاڑ کے دامن سے ایک لشکر آ رہا ہے تو کیا تم میری تصدیق کرو گے؟“ انہوں نے کہا: ہم نے کبھی بھی آپ کو جھوٹا نہیں پایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک میں تمہیں آنے والے سخت عذاب سے ڈرانے والا ہوں۔“ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ابو لہب نے کہا: تو ہلاک ہو جائے، کیا اسی کام کے لیے تو نے ہمیں اکٹھا کیا تھا؟ پھر وہ کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اس سورت کو نازل کیا ﴿تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ﴾ [سورة المسد: 1] ”ابولہب کے دونوں ہاتھ ہلاک ہو گئے اور وہ خود بھی ہلاک ہو گیا۔“ اسی طرح اعمش نے آخر سورت تک تلاوت کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17725]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 17725 in Urdu