السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3540. -- باب: ما جاء في نسخ العفو عن المشركين، ونسخ النهي عن القتال حتى يقاتلوا، والنهي عن القتال في الشهر الحرام
-- باب: مشرکین کو معاف کرنے کے منسوخ ہونے، مشرکین کے حملہ کرنے تک ان سے قتال نہ کرنے کی ممانعت کے منسوخ ہونے، اور حرمت والے مہینوں میں قتال کی ممانعت کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17745
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ، بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَاقُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنِ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِي السَّوَّارِ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ:" بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ عُبَيْدَةَ بْنَ الْحَارِثِ. قَالَ: فَلَمَّا انْطَلَقَ لِيَتَوَجَّهَ بَكَى صَبَابَةً إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ مَكَانَهُ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَحْشٍ وَكَتَبَ لَهُ كِتَابًا، وَأَمَرَهُ أَنْ لَا يَقْرَأَهُ إِلَّا لِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا، لَا تُكْرِهَنَّ أَحَدًا مِنْ ⦗٢١⦘ أَصْحَابِكَ عَلَى الْمَسِيرِ مَعَكَ، فَلَمَّا صَارَ إِلَى ذَلِكَ الْمَوْضِعِ قَرَأَ الْكِتَابَ وَاسْتَرْجَعَ، قَالَ: سَمْعًا وَطَاعَةً لِلَّهِ وَرَسُولِهِ. قَالَ: فَرَجَّعَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ وَمَضَى بَقِيَّتُهُمْ مَعَهُ، فَلَقُوا ابْنَ الْحَضْرَمِيِّ فَقَتَلُوهُ، فَلَمْ يَدْرِ ذَلِكَ مِنْ رَجَبٍ أَوْ مِنْ جُمَادَى الْآخِرَةِ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: قَتَلَهُمْ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ، فَنَزَلَتْ: {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ قُلْ قِتَالٌ فِيهِ كَبِيرٌ} [البقرة: ٢١٧] ، إِلَى قَولِهِ: {وَالْفِتْنَةُ أَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ} [البقرة: ٢١٧] . قَالَ: فَقَالَ بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ: لَئِنْ كَانُوا أَصَابُوا خَيْرًا مَا لَهُمْ أَجْرٌ، فَنَزَلَتْ: {إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللهِ أُولَئِكَ يَرْجُونَ رَحْمَةَ اللهِ وَاللهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ}".
حضرت جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گروہ کو روانہ کیا اور اس پر عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ کو امیر بنایا اور جب وہ جانے کے لیے نکلا تو اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت نے رلا دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی جگہ پر عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کو امیر بنا دیا اور ایک خط لکھ کر دیا اور ان سے کہا کہ اس کو فلاں جگہ پر کھول کر پڑھنا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے ساتھ سفر پر لے جانے کے لیے اپنے کسی بھی ساتھی پر جبر نہ کرنا۔“ جب وہ اس جگہ پر پہنچے جہاں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خط کھولنے کا حکم دیا تھا تو انہوں نے خط کھول کر پڑھا اور ساتھ ہی «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّآ إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ”بے شک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں“ بھی پڑھ دیا اور کہا کہ ہم نے اللہ اور اس کے رسول کی بات سنی اور اس کی اطاعت کی۔ کہتے ہیں کہ ان کے ساتھیوں میں سے ایک آدمی واپس آگیا اور باقی ان کے ساتھ چلتے رہے اور ابن حضرمی ملے اور انہوں نے اس کو قتل کر دیا اور ان کو پتہ نہ چلا کہ یہ رجب کا مہینہ ہے یا جمادی الآخرۃ کا تو مشرکین نے کہا کہ تم نے حرمت والے مہینے میں قتل کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ والی آیات نازل فرمائیں: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ قُلْ قِتَالٌ فِيهِ كَبِيرٌ﴾ [سورة البقرة: 217] اس قول تک ﴿وَالْفِتْنَةُ أَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ﴾ [سورة البقرة: 217] ”یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے حرمت والے مہینے میں قتال کرنے کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ دیجیے کہ ان میں قتال کرنا تو کبیرہ گناہ ہے۔۔۔ لیکن فتنہ پھیلانا تو قتل کرنے سے بھی بڑا گناہ ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ بعض مسلمانوں نے کہا کہ اگر انہوں نے اچھا کام بھی کیا ہے تو اس پر ان کو اجر نہیں ملے گا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُولَئِكَ يَرْجُونَ رَحْمَتَ اللَّهِ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ [سورة البقرة: 218] ”جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور اللہ کے راستے میں جہاد کیا تو یہی لوگ اللہ کی رحمت کے امیدوار ہیں اور اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا، رحم کرنے والا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17745]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 17745 in Urdu