السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3541. -- باب: فرض الهجرة
-- باب: ہجرت کے فرض ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: Q17749
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ فِي الَّذِي يُفْتَنُ عَنْ دِينِهِ قَدَرَ عَلَى الْهِجْرَةِ فَلَمْ يُهَاجِرْ حَتَّى تُوُفِّيَ: {إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ قَالُوا فِيمَ كُنْتُمْ قَالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِي الْأَرْضِ} [النساء: 97] الْآيَةَ..
اللہ جل ثناؤہ نے اس شخص کے بارے میں، جسے اس کے دین کی وجہ سے آزمائش میں ڈالا جائے اور وہ ہجرت پر قادر ہو مگر ہجرت نہ کرے یہاں تک کہ فوت ہو جائے، فرمایا: ﴿إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ قَالُوا فِيمَ كُنْتُمْ قَالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِي الْأَرْضِ﴾ ”بے شک وہ لوگ جن کی روحیں فرشتے اس حال میں قبض کرتے ہیں کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہوتے ہیں، (فرشتے) کہتے ہیں: تم کس حال میں تھے؟ وہ کہتے ہیں: ہم زمین میں کمزور (اور بے بس) تھے۔“ [سورة النساء: 97] (الآیۃ)... [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: Q17749]
حدیث نمبر: 17749
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا حَيْوَةُ، وَرَجُلٌ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ الْأَسَدِيُّ، قَالَ: قُطِعَ عَلَى أَهْلِ الْمَدِينَةِ بَعْثٌ لِيَنْهَبَ فِيهِ، فَلَقِيتُ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَنَهَانِي أَشَدَّ النَّهْيِ، ثُمَّ قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ" نَاسًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ كَانُوا مَعَ الْمُشْرِكِينَ يُكَثِّرُونَ سَوَادَ الْمُشْرِكِينَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَأْتِي السَّهْمُ يُرْمَى بِهِ فَيُصِيبُ أَحَدَهُمْ فَيَقْتُلُهُ، أَوْ يُضْرَبُ فَيُقْتَلُ، فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى ذِكْرَهُ فِيهِمْ: {إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ قَالُوا فِيمَ كُنْتُمْ قَالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِي الْأَرْضِ قَالُوا أَلَمْ تَكُنْ أَرْضُ اللهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوا فِيهَا فَأُولَئِكَ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَسَاءَتْ مَصِيرًا} [النساء: ٩٧] . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئِ.
محمد بن عبدالرحمن بن نوفل اسدی نے کہا کہ مدینہ والوں کو ایک فوج نکالنے کا حکم دیا گیا اور اس میں میرا بھی نام لکھا گیا، (اسی دوران) میری ملاقات عکرمہ مولیٰ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ہوئی تو انہوں نے مجھے بڑی سختی سے منع کیا اور کہا کہ مجھے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ مسلمانوں میں سے کچھ لوگ تھے جو مشرکین کی فوج کے ساتھ مل گئے اور ان کی تعداد میں اضافہ کا سبب بنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہ ملے، تو جب کبھی مسلمانوں کی طرف سے تیر آتا تو ان کو لگ جاتا اور یہ مر جاتے یا ویسے قتل ہو جاتے، تو ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ قَالُوا فِيمَ كُنْتُمْ قَالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِي الْأَرْضِ قَالُوا أَلَمْ تَكُنْ أَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوا فِيهَا فَأُولَئِكَ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَسَاءَتْ مَصِيرًا﴾ [سورة النساء: 97] ”جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں جب فرشتے ان کی روح قبض کرتے ہیں تو ان سے پوچھتے ہیں: تم کس حال میں تھے (ہجرت کیوں نہ کی)؟ یہ جواب دیتے ہیں کہ ہم اپنی جگہ کمزور اور مغلوب تھے۔ فرشتے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم ہجرت کر جاتے؟ یہی وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ پہنچنے کی بری جگہ ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17749]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 17749 in Urdu