🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3542. -- باب: ما جاء في عذر المستضعفين
-- باب: کمزوروں (مستضعفین) کے عذر کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17759
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: كَانَ نَاسٌ بِمَكَّةَ قَدْ أَقَرُّوا بِالْإِسْلَامِ، فَلَمَّا خَرَجَ النَّاسُ إِلَى بَدْرٍ لَمْ يَبْقَ أَحَدٌ إِلَّا أَخْرَجُوهُ فَقُتِلَ، أُولَئِكَ الَّذِينَ أَقَرُّوا بِالْإِسْلَامِ، فَنَزَلَتْ فِيهِمْ: {إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ} [النساء: ٩٧] ، إِلَى قَوْلِهِ: {وَسَاءَتْ مَصِيرًا، إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ لَا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً وَلَا يَهْتَدُونَ سَبِيلًا} [النساء: ٩٨] ، حِيلَةً: نُهُوضًا إِلَيْهَا، وَسَبِيلًا: طَرِيقًا إِلَى الْمَدِينَةِ، فَكَتَبَ الْمُسْلِمُونَ الَّذِينَ كَانُوا بِالْمَدِينَةِ إِلَى مَنْ كَانَ بِمَكَّةَ، فَلَمَّا كُتِبَ إِلَيْهِمْ خَرَجَ نَاسٌ مِمَّنْ أَقَرُّوا ⦗٢٥⦘ بِالْإِسْلَامِ، فَاتَّبَعَهُمُ الْمُشْرِكُونَ فَأَكْرَهُوهُمْ حَتَّى أَعْطَوْهُمُ الْفِتْنَةَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِمْ: {إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ} [النحل: ١٠٦] .
سیدنا عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بعض لوگوں نے مکہ میں اسلام کا اقرار کر لیا، جب لوگوں نے بدر کی طرف کوچ کیا تو انہوں نے ان کو بھی نکلوا لیا اور ساتھ لے لیا تو یہ لوگ جنہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا قتل کر دیے گئے تو ان کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں: ﴿إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ﴾ اس قول تک ﴿وَسَاءَتْ مَصِيرًا﴾ [سورة النساء: 97] ”جب ظالم لوگوں کی فرشتے روحیں قبض کرتے ہیں تو وہ پوچھتے ہیں: تم کن میں تھے؟“ اور ﴿إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ لَا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً وَلَا يَهْتَدُونَ سَبِيلًا﴾ [سورة النساء: 98] ”مگر وہ کمزور مرد، عورتیں اور بچے جو نہ کوئی تدبیر کر سکتے ہیں اور نہ کوئی راستہ پاتے ہیں۔“ «حِيلَةً» کا معنی ہے ”اس کی طرف اٹھنا، جانا“ اور «سَبِيلًا» کا معنی ہے ”مدینہ کی طرف راستہ“، پس مدینہ کے مسلمانوں نے مکہ کے مسلمانوں کی طرف خط لکھے، جب ان کی طرف خط لکھے گئے تو مکہ کے ان نو مسلمانوں میں سے کچھ نکلے تو مشرکین نے ان کو پکڑ لیا اور ان کو طرح طرح کی مصیبتوں سے دوچار کیا یہاں تک کہ وہ ان کی بات ماننے پر مجبور ہو گئے تو ان لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ﴾ [سورة النحل: 106] ”جس پر جبر کیا گیا اور اس کا دل ایمان سے لبریز ہو تو اس پر کلمہ کفر کہنے پر کوئی گناہ نہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17759]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 17759 in Urdu