السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3545. -- باب: من كره أن يموت بالأرض التي هاجر منها
-- باب: اس شخص کے بیان میں جس نے اس سرزمين پر مرنا ناپسند کیا جہاں سے اس نے ہجرت کی تھی۔
حدیث نمبر: 17780
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، ثنا ابْنُ أَبِي غَرَزَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ هُوَ أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي، وَكَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَمُوتَ بِالْأَرْضِ الَّتِي هَاجَرَ مِنْهَا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ؟ قَالَ:" لَا". قُلْتُ: فَالشَّطْرِ؟. قَالَ:" لَا". قُلْتُ فَالثُّلُثِ؟. قَالَ:" الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ، إِنَّكَ إِنْ تَدَعَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ لَهُمْ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ ⦗٣١⦘ النَّاسَ بِأَيْدِيهِمْ، وَإِنَّكَ مَهْمَا أَنْفَقْتَ مِنْ نَفَقَةٍ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ حَتَّى اللُّقْمَةَ تَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِكَ، وَلَعَلَّ اللهَ أَنْ يَرْفَعَكَ فَيَنْتَفِعَ بِكَ أُنَاسٌ وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ"..
سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے میرے پاس آئے اور میں اس بات کو ناپسند کرتا تھا کہ مجھے اسی زمین میں موت آئے جہاں سے میں نے ہجرت کی ہے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں سارے مال کی وصیت کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“ میں نے کہا: آدھے مال کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے کہا: ایک تہائی مال کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک تہائی (کی وصیت کر دو)، اور ایک تہائی بھی زیادہ ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے وارثوں کو مال داری کی حالت میں چھوڑ جاؤ، یہ بہتر ہے اس سے کہ تم ان کو فقیری کی حالت میں چھوڑو اور وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں اور آپ جب کبھی بھی اللہ کے راستے میں کچھ خرچ کریں گے تو وہ آپ کے حق میں صدقہ بن جائے گا حتیٰ کہ وہ نوالہ جو تم اپنی بیوی کے منہ کی طرف اٹھاتے ہو (اس پر بھی اجر ملتا ہے) اور شاید کہ رفعت عطا فرمائے اور تیری وجہ سے بہت سے لوگوں کو فائدہ پہنچائے اور دوسروں (یعنی کافروں، مشرکوں) کو نقصان۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17780]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 17780 in Urdu