السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
352. -- باب: الدليل على أنها لا تبطل بطلوع الشمس فيها
-- باب: اس دلیل کا بیان کہ نماز کے دوران سورج طلوع ہو جانے سے نماز باطل نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 1780
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ ثنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْفَجْرَ فَمَا سَلَّمَ حَتَّى ظَنَّ الرِّجَالُ ذَوُو الْعُقُولِ أَنَّ الشَّمْسَ قَدْ طَلَعَتْ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالُوا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ كَادَتِ الشَّمْسُ تَطْلُعُ قَالَ: فَتَكَلَّمَ بِشَيْءٍ لَمْ أَفْهَمْهُ فَقُلْتُ: أَيَّ شَيْءٍ قَالَ: فَقَالُوا: قَالَ:" لَوْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ لَمْ تَجِدْنَا غَافِلِينَ".
سیدنا عثمان نہدی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے فجر کی نماز پڑھی، انہوں نے سلام نہیں پھیرا یہاں تک کہ عقلمند لوگوں نے گمان کیا کہ سورج طلوع ہو گیا ہے، جب انہوں نے سلام پھیرا تو انہوں نے کہا: اے امیر المؤمنین! قریب تھا کہ سورج طلوع ہو جاتا۔ فرماتے ہیں کہ انہوں نے کوئی بات کہی، میں اس کو سمجھ نہیں سکا۔ میں نے کہا: کیا بات فرمائی ہے؟ انہوں نے کہا کہ آپ نے فرمایا: اگر طلوع ہو جاتا تو ہم کو غافل نہ پاتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1780]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الطحاوي في شرح المعاني 1/180»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 1780 in Urdu