السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3550. -- باب: من اعتذر بالضعف والمرض والزمانة والعذر في ترك الجهاد
-- باب: جہاد ترک کرنے میں کمزوری، بیماری، معذوری اور دیگر اعذار پیش کرنے والے کے بیان میں۔
حدیث نمبر: 17821
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي وَالِدِي إِسْحَاقُ بْنُ يَسَارٍ، عَنْ أَشْيَاخٍ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ، قَالُوا كَانَ عَمْرُو بْنُ الْجَمُوحِ أَعْرَجَ شَدِيدَ الْعَرَجِ، وَكَانَ لَهُ أَرْبَعَةُ بَنِينَ شَبَابٌ يَغْزُونَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا غَزَا، فَلَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَجَّهُ إِلَى أُحُدٍ، قَالَ لَهُ بَنُوهُ: إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ جَعَلَ لَكَ رُخْصَةً فَلَوْ قَعَدْتَ فَنَحْنُ نَكْفِيكَ فَقَدْ وَضَعَ اللهُ عَنْكَ الْجِهَادَ. فَأَتَى عَمْرُو بْنُ الْجَمُوحِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ بَنِيَّ هَؤُلَاءِ يَمْنَعُونَ أَنْ أَخْرُجَ مَعَكَ، وَاللهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أُسْتَشْهَدَ فَأَطَأَ بِعَرْجَتِي هَذِهِ فِي الْجَنَّةِ. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا أَنْتَ فَقَدْ وَضَعَ اللهُ عَنْكَ الْجِهَادَ". وَقَالَ لِبَنِيهِ:" وَمَا عَلَيْكُمْ أَنْ تَدَعُوهُ لَعَلَّ اللهَ يَرْزُقُهُ الشَّهَادَةَ". فَخَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ شَهِيدًا.
بنی سلمہ کے چند شیوخ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ بہت زیادہ لنگڑے تھے، ان کے چار جوان بیٹے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس غزوے میں بھی جاتے وہ آپ کے ساتھ ہوتے اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کی طرف جانے کا ارادہ کیا تو سیدنا عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ نے بھی جانا چاہا، لیکن ان کے بیٹوں نے ان کو کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو رخصت دی ہے اور آپ کا یہاں بیٹھنا زیادہ بہتر ہے اور آپ کی جگہ ہم آپ کی کفایت کر جائیں گے، اللہ نے آپ پر جہاد فرض نہیں کیا تو سیدنا عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے بیٹے مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جانے سے روکتے ہیں اللہ کی قسم! مجھے امید ہے کہ میں شہید کیا جاؤں اور اپنے اسی لنگڑے پن کے ساتھ جنت میں چلوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے آپ سے جہاد کو معاف کر دیا ہے“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بیٹوں سے کہا: ”تم اسے کیوں نہیں جانے دیتے! ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے شہادت نصیب فرمائے۔“ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور احد کے دن شہید ہو گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17821]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 17821 in Urdu