السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3560. -- باب: من ليس للإمام أن يغزو به بحال
-- باب: اس شخص کا بیان جسے امام کے لیے کسی صورت اپنے ساتھ جہاد پر لے جانا جائز نہیں۔
حدیث نمبر: 17867
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، فِي قِصَّةِ تَبُوكَ، قَالَ: فَلَمَّا بَلَغَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الثَّنِيَّةَ نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ خُذُوا بَطْنَ الْوَادِي؛ فَهُوَ أَوْسَعُ عَلَيْكُمْ، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَخَذَ الثَّنِيَّةَ، وَكَانَ مَعَهُ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَكَرِهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُزَاحِمَهُ فِي الثَّنِيَّةِ أَحَدٌ، فَسَمِعَهُ نَاسٌ مِنَ الْمُنَافِقِينَ فَتَخَلَّفُوا، ثُمَّ اتَّبَعَهُ رَهْطٌ مِنَ الْمُنَافِقِينَ، فَسَمِعَ ذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِسَّ الْقَوْمِ خَلْفَهُ، فَقَالَ لِأَحَدِ صَاحِبَيْهِ:" اضْرِبْ وُجُوهَهُمْ". فَلَمَّا سَمِعُوا ذَلِكَ وَرَأَوَا الرَّجُلَ مُقْبِلًا نَحْوَهُمْ وَهُوَ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ انْحَدَرُوا جَمِيعًا وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَضْرِبُ رَوَاحِلَهُمْ، وَقَالُوا: إِنَّمَا نَحْنُ أَصْحَابُ أَحْمَدَ، وَهُمْ مُتَلَثِّمُونَ لَا يُرَى شَيْءٌ إِلَّا أَعْيُنُهُمْ، فَجَاءَ صَاحِبُهُ بَعْدَ مَا انْحَدَرَ الْقَوْمُ، فَقَالَ:" هَلْ عَرَفْتَ الرَّهْطَ؟" فَقَالَ: لَا وَاللهِ يَا نَبِيَّ ⦗٥٧⦘ اللهِ، وَلَكِنْ قَدْ عَرَفْتُ رَوَاحِلَهُمْ. فَانْحَدَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الثَّنِيَّةِ، وَقَالَ لِصَاحِبَيْهِ:" هَلْ تَدْرُونَ مَا أَرَادَ الْقَوْمُ؟ أَرَادُوا أَنْ يَزْحَمُونِي مِنَ الثَّنِيَّةِ فَيَطْرَحُونِي مِنْهَا". فَقَالَا: أَفَلَا تَأْمُرُنَا يَا رَسُولَ اللهِ فَنَضْرِبَ أَعْنَاقَهُمْ إِذَا اجْتَمَعَ إِلَيْكَ النَّاسُ؟ فَقَالَ:" أَكْرَهُ أَنْ يَتَحَدَّثَ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا قَدْ وَضَعَ يَدَهُ فِي أَصْحَابِهِ يَقْتُلُهُمْ". وَذَكَرَ الْقِصَّةَ.
ابن اسحاق رحمہ اللہ غزوہ تبوک کے بارے میں فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ثنیہ (گھاٹی) پر پہنچے تو آپ کے ایلچی نے اعلان کیا کہ وادی کے درمیانی حصہ پر قبضہ کر لیں، وہ تمہارے لیے وسیع جگہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ثنیہ پر چلے گئے، آپ کے ساتھ حذیفہ بن یمان اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ناپسند کرتے تھے کہ کوئی ثنیہ کے بارے میں ان سے مقابلہ کرے۔ جب منافقین کے گروہ نے یہ نداء سنی تو یہ پیچھے ہٹ گئے پھر منافقین کا ایک گروہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل پڑا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے لوگوں کی آہٹ سنی تو اپنے ایک ساتھی سے کہا: ”ان کے منہ پر مارو۔“ جب منافقین نے یہ سنا اور دیکھا کہ ایک آدمی ان کی طرف آ رہا ہے جو حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ تھے تو سب نیچے اتر آئے۔ ایک سواریوں کو مارنے لگا اور انہوں نے کہا: ہم احمد کے ساتھی ہیں، وہ نقاب پوش تھے ان کی صرف آنکھیں نظر آتی تھیں۔ جب آپ کا ساتھی آیا قوم کے اترنے کے بعد تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تو نے گروہ کو پہچانا تھا؟“ تو اس نے کہا: میں نے ان کو نہیں پہچانا مگر ان کی سواریوں کو پہچانا ہے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ثنیہ سے اترے اور ساتھیوں سے کہا: ”کیا تم جانتے ہو یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟ یہ چاہتے تھے کہ گھاٹی پر مجھ پر ہجوم کر کے مجھے اس سے نیچے گرا دیں۔“ تو ساتھیوں نے کہا: کیا آپ ہمیں حکم دیتے ہیں کہ ہم ان کی گردن مار دیں جب وہ آپ کے پاس آئیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں پسند نہیں کرتا کہ لوگ باتیں کریں کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کرتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17867]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابن اسحاق عن النبي (صلي الله عليه وآله وسلم) مرسل»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 17867 in Urdu