السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3562. -- باب: من يبدأ بجهاده من المشركين
-- باب: مشرکین میں سے کس کے خلاف جہاد کی ابتدا کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 17883
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، قَالَا: أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى نَافِعٍ أَسْأَلُهُ عَنِ الدُّعَاءِ قَبْلَ الْقِتَالِ، قَالَ:" فَكَتَبَ إِنَّمَا كَانَ ذَاكَ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ، قَدْ أَغَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَهُمْ غَارُّونَ وَأَنْعَامُهُمْ تُسْقَى عَلَى الْمَاءِ، فَقَتَلَ مُقَاتِلَتَهُمْ وَسَبَى سَبْيَهُمْ، وَأَصَابَ يَوْمَئِذٍ - أَحْسَبُهُ قَالَ: جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ. حَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَكَانَ فِي ذَلِكَ الْجَيْشِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" وَبَلَغَهُ أَنَّ خَالِدَ بْنَ سُفْيَانَ بْنِ نُبَيْحٍ يَجْمَعُ لَهُ، فَأَرْسَلَ ابْنَ أُنَيْسٍ فَقَتَلَهُ وَقُرْبَهُ عَدُوٌّ أَقْرَبُ مِنْهُ".
ابن عون کہتے ہیں: میں نے نافع کو خط لکھ کر پوچھا کہ قتال (لڑائی) سے قبل دعا (دعوت) کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے لکھا: یہ ابتدائے اسلام میں تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مصطلق پر شب خون مارا (رات کو حملہ کیا) اور وہ بے خبر تھے جبکہ ان کے جانوروں کو پانی پلایا جا رہا تھا، تو لڑائی کے اہل لوگوں کو قتل کر دیا گیا اور بچوں کو قیدی بنا لیا گیا۔ اس دن (راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے انہوں نے کہا) سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے میں آئیں۔ یہ حدیث مجھے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کی، اور وہ اس لشکر میں شامل تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب یہ خبر آئی کہ خالد بن سفیان بن نبیح لشکر تیار کر رہا ہے تو اس طرف ابن انیس رضی اللہ عنہ کو بھیجا گیا۔ انہوں نے اس کو قتل کر دیا جبکہ اس کے قریب بھی دشمن موجود تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17883]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب یہ خبر آئی کہ خالد بن سفیان بن نبیح لشکر تیار کر رہا ہے تو اس طرف ابن انیس رضی اللہ عنہ کو بھیجا گیا۔ انہوں نے اس کو قتل کر دیا جبکہ اس کے قریب بھی دشمن موجود تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17883]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 17883 in Urdu