السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
355. -- باب: ذكر المعاني التي يؤذن لها بلال بليل
-- باب: ان مقاصد کے ذکر کا بیان جن کی وجہ سے حضرت بلال رات کو اذان دیا کرتے تھے
حدیث نمبر: 1791
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ثنا شُعْبَةُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي أُنَيْسَةُ قَالَتْ: كَانَ بِلَالٌ وَابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ يُؤَذِّنَانِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ" وَكُنَّا نَحْبِسُ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ عَنِ الْأَذَانِ فَنَقُولُ: كَمَا أَنْتَ حَتَّى نَتَسَحَّرَ وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَ أَذَانِهِمَا إِلَّا أَنْ يَنْزِلَ هَذَا وَيَصْعَدَ هَذَا" ⦗٥٦٢⦘ هَكَذَا رَوَاهُ عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ وَجَمَاعَةٌ عَنْ شُعْبَةَ.
خبیب بن عبد الرحمن کہتے ہیں کہ میری چچی انیسہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سیدنا بلال اور ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اذان دیا کرتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال رضی اللہ عنہ رات کی اذان دیتے ہیں، پس تم کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ اذان دیں“، ہم ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو اذان سے روکتے تھے، ہم کہتے تھے: اپنی جگہ ٹھہرے رہو یہاں تک کہ ہم سحری کر لیں، اور ان کی اذان اس طرح تھی کہ یہ نیچے اترتے اور وہ اوپر چڑھتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1791]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الطيالسي 1661»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 1791 in Urdu