السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3568. -- باب: من تبرع بالتعرض للقتل رجاء إحدى الحسنيين
-- باب: اس شخص کے بیان میں جس نے دو بھلائیوں یعنی غازی یا شہید میں سے کسی ایک کی امید پر رضاکارانہ طور پر خود کو موت کے سامنے پیش کر دیا۔
حدیث نمبر: Q17915
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" قَدْ بُورِزَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَمَلَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ حَاسِرًا عَلَى جَمَاعَةٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ بَدْرٍ بَعْدَ إِعْلَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهُ بِمَا فِي ذَلِكَ مِنَ الْخَيْرِ فَقُتِلَ" قَالَ الشَّيْخُ: هُوَ عَوْفُ ابْنُ عَفْرَاءَ فِيمَا ذَكَرَهُ ابْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، وَذَلِكَ مَعَ ذِكْرِ مَنْ بَارَزَ بَيْنَ يَدَيْهِ، يَرِدُ فِي مَوْضِعِهِ إِنْ شَاءَ اللهُ"..
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں (دشمن سے) انفرادی مقابلہ (مبارزت) کیا گیا، اور غزوہ بدر کے دن انصار میں سے ایک شخص نے بغیر زرہ کے مشرکین کی ایک جماعت پر حملہ کیا، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے اس (عمل) میں موجود خیر (اور اجر) کی خبر دے چکے تھے، پس وہ شہید ہو گئے۔“
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”یہ سیدنا عوف بن عفراء رضی اللہ عنہ تھے، جیسا کہ ابن اسحاق نے عاصم بن عمر بن قتادہ سے ذکر کیا ہے، اور یہ (واقعہ) ان لوگوں کے ذکر کے ساتھ جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مبارزت کی، ان شاء اللہ اپنے مقام پر آئے گا۔“... [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: Q17915]
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”یہ سیدنا عوف بن عفراء رضی اللہ عنہ تھے، جیسا کہ ابن اسحاق نے عاصم بن عمر بن قتادہ سے ذکر کیا ہے، اور یہ (واقعہ) ان لوگوں کے ذکر کے ساتھ جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مبارزت کی، ان شاء اللہ اپنے مقام پر آئے گا۔“... [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: Q17915]
حدیث نمبر: 17915
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَكَرَ شَيْئًا مِنْ قِصَّةِ بَدْرٍ، قَالَ: فَدَنَا الْمُشْرِكُونَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُومُوا إِلَى جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ". قَالَ: يَقُولُ عُمَيْرُ بْنُ الْحُمَامِ الْأَنْصَارِيُّ: يَا رَسُولَ اللهِ، عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ؟ قَالَ:" نَعَمْ". قَالَ: بَخٍ بَخٍ. قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا يَحْمِلُكَ عَلَى قَوْلِكَ: بَخٍ بَخٍ؟". قَالَ: لَا وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ إِلَّا رَجَاءَ أَنْ أَكُونَ مِنْ أَهْلِهَا. قَالَ:" فَإِنَّكَ مِنْ أَهْلِهَا". قَالَ: فَأَخْرَجَ تَمَرَاتٍ مِنْ قَرَنِهِ فَجَعَلَ يَأْكُلُ مِنْهُنَّ، ثُمَّ قَالَ:" لَئِنْ أَنَا حَيِيتُ حَتَّى آكُلَ مِنْ تَمَرَاتِي هَذِهِ إِنَّهَا لَحَيَاةٌ طَوِيلَةٌ". قَالَ: فَرَمَى بِمَا كَانَ مَعَهُ مِنَ التَّمْرِ، ثُمَّ قَاتَلَهُمْ حَتَّى قُتِلَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ.
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بدر کا واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ مشرکین قریب ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت کی طرف بڑھو، ﴿وہ جنت جس کی چوڑائی (عرض) زمین اور آسمان کے درمیان فاصلے کے برابر ہے﴾ [سورة آل عمران: 133] ۔“ عمیر بن حمام انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا اس کا عرض (چوڑائی) آسمان و زمین کے درمیانی خلا کے برابر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں!“ تو عمیر نے کہا: «بَخٍ بَخٍ» ”واہ واہ۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تو نے «بَخٍ بَخٍ» (واہ واہ) کیوں کہا؟“ تو عمیر نے کہا کہ صرف اس امید کی وجہ سے کہ میں ان میں سے ہو جاؤں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ان میں سے ہے۔“ اس نے اپنی پوٹلی سے کھجوریں نکال کر کھانا شروع کیں۔ پھر کہا: اگر ان کھجوروں کو کھانے تک میں مزید رکا تو یہ لمبی زندگی ہو گی، اسی وقت کھجوروں کو پھینکا اور دشمن سے لڑا حتیٰ کہ شہید ہو گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17915]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 17915 in Urdu