السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3568. -- باب: من تبرع بالتعرض للقتل رجاء إحدى الحسنيين
-- باب: اس شخص کے بیان میں جس نے دو بھلائیوں یعنی غازی یا شہید میں سے کسی ایک کی امید پر رضاکارانہ طور پر خود کو موت کے سامنے پیش کر دیا۔
حدیث نمبر: 17920
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا ابْنُ عُثْمَانَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، أَنَّ ⦗٧٧⦘ عِكْرِمَةَ بْنَ أَبِي جَهْلٍ تَرَجَّلَ يَوْمَ كَذَا، فَقَالَ لَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ:" لَا تَفْعَلْ فَإِنَّ قَتْلَكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ شَدِيدٌ". فَقَالَ: خَلِّ عَنِّي يَا خَالِدُ، فَإِنَّهُ قَدْ كَانَتْ لَكَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَابِقَةٌ، وَإِنِّي وَأَبِي كُنَّا مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَمَشَى حَتَّى قُتِلَ".
ثابت بنانی سے روایت ہے کہ سیدنا عکرمہ بن ابی جہل رضی اللہ عنہ ایک لڑائی میں ایک دن پیدل چلنے لگے تو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ایسا نہ کر، تیرا قتل مسلمانوں پر گراں ہو گا۔“ انہوں نے کہا: ”میرا راستہ چھوڑ دیں۔ اے خالد رضی اللہ عنہ! آپ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دینے میں مجھ سے آگے ہیں، جبکہ میں اور میرا باپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے بڑے دشمن تھے،“ وہ چلے اور شہید ہو گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17920]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 17920 in Urdu