السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3585. -- باب: ما فضل في يده من الطعام والعلف في دار الحرب
-- باب: دار الحرب میں مجاہد کے پاس جو کھانا اور چارہ بچ جائے، اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 18007
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ:" يُرْوَى مِنْ حَدِيثِ بَعْضِ النَّاسِ مِثْلُ مَا قُلْتُ مِنْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لَهُمْ أَنْ يَأْكُلُوا فِي بِلَادِ الْعَدُوِّ وَلَا يَخْرُجُوا بِشَيْءٍ مِنَ الطَّعَامِ. فَإِنْ كَانَ مِثْلُ هَذَا ثَبَتَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَا حُجَّةَ لِأَحَدٍ مَعَهُ، وَإِنْ كَانَ لَا يَثْبُتُ لِأَنَّ فِي رِجَالِهِ مَنْ يُجْهَلُ، فَكَذَلِكَ فِي رِجَالِ مَنْ رُوِيَ عَنْهُ إِحْلَالُهُ مَنْ يُجْهَلُ. قَالَ الشَّيْخُ:" وَكَأَنَّهُ أَرَادَ بِالْأَوَّلِ حَدِيثَ الْوَاقِدِيِّ، وَأَرَادَ بِالثَّانِي مَا ذَكَرْنَا بَعْدَهُ".
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بعض لوگوں سے روایت بیان کی گئی ہے جس طرح میں کہتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اجازت دی ہے کہ دشمن کے علاقہ میں مال غنیمت کھا لیں، لیکن اس میں سے کچھ نہ نکالو۔“ اگر یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو جائے تو اس کی موجودگی میں دوسری کوئی دلیل نہیں ہے اور اگر یہ ثابت نہ ہو کیونکہ اس میں ایک مجہول ہے تو اسی طرح جن راویوں سے اس کی حلت مروی ہے ان میں بھی مجہول ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: امام شافعی کی اول سے مراد حدیث واقدی ہے اور دوسری وہ جو ہم نے بعد میں ذکر کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18007]
شیخ فرماتے ہیں: امام شافعی کی اول سے مراد حدیث واقدی ہے اور دوسری وہ جو ہم نے بعد میں ذکر کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18007]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 18007 in Urdu