السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3591. -- باب: ما يفعله بالرجال البالغين منهم
-- باب: ان میں سے بالغ مردوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: Q18021
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" الْإِمَامُ فِيهِمْ بِالْخِيَارِ بَيْنَ أَنْ يَقْتُلَهُمْ إِنْ لَمْ يُسْلِمْ أَهْلُ الْأَوْثَانِ، أَوْ يُعْطِيَ الْجِزْيَةَ أَهْلُ الْكِتَابِ، أَوْ يَمُنَّ عَلَيْهِمْ، أَوْ يُفَادِيَهِمْ بِمَالٍ يَأْخُذُهُ مِنْهُمْ أَوْ بِأَسْرَى مِنَ الْمُسْلِمِينَ يُطْلَقُونَ لَهُمْ، أَوْ يَسْتَرِقَّهُمْ فَإِنِ اسْتَرَقَّهُمْ أَوْ أَخَذَ مِنْهُمْ مَالًا فَسَبِيلُهُ سَبِيلُ الْغَنِيمَةِ، يُخْمَسُ وَيَكُونُ أَرْبَعَةُ أَخْمَاسِهَا لِأَهْلِ الْغَنِيمَةِ، فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ: كَيْفَ حَكَمْتَ فِي الْمَالِ وَالْوِلْدَانِ وَالنِّسَاءِ حُكْمًا وَاحِدًا، وَحَكَمْتَ فِي الرِّجَالِ أَحْكَامًا مُتَفَرِّقَةً؟ قِيَلَ: ظَهَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قُرَيْظَةَ وَخَيْبَرَ، فَقَسَمَ عَقَارَهَا مِنَ الْأَرَضِينَ وَالنَّخْلِ قِسْمَةَ الْأَمْوَالِ، وَسَبَى وِلْدَانَ بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَهَوَازِنَ وَنِسَاءَهُمْ، فَقَسَمَهُمْ قِسْمَةَ الْأَمْوَالِ". قَالَ الشَّيْخُ: أَمَّا مَا قَالَ فِي قُرَيْظَةَ فَفِيمَا".
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”امام کو ان (جنگی قیدیوں) کے بارے میں اختیار ہے کہ اگر بت پرست اسلام نہ لائیں اور اہل کتاب جزیہ نہ دیں تو انہیں قتل کر دے، یا ان پر احسان کرتے ہوئے (بلا معاوضہ) چھوڑ دے، یا ان سے فدیہ لے، خواہ وہ مال ہو جو ان سے وصول کرے یا مسلمان قیدی ہوں جو ان کے بدلے چھڑائے جائیں، یا انہیں غلام بنا لے، پس اگر وہ انہیں غلام بنا لے یا ان سے مال لے لے تو اس کا حکم مال غنیمت کا حکم ہے، اس کا خمس (پانچواں حصہ) نکالا جائے گا اور اس کے باقی چار حصے غنیمت کے حقداروں کے ہوں گے۔ پس اگر کوئی کہنے والا کہے: آپ نے مال، بچوں اور عورتوں کے بارے میں تو ایک ہی حکم لگایا ہے اور مردوں کے بارے میں مختلف احکام لگائے ہیں، ایسا کیوں؟ تو (اس سے) کہا جائے گا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو قریظہ اور خیبر پر غالب آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی غیر منقولہ جائیداد یعنی زمینوں اور کھجور کے باغات کو اموال کی طرح تقسیم فرمایا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو المصطلق اور ہوازن کے بچوں اور عورتوں کو قیدی بنایا تو انہیں بھی اموال کی طرح تقسیم فرما دیا۔“
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”رہا وہ جو انہوں نے بنو قریظہ کے بارے میں فرمایا، تو وہ اس (روایت) میں ہے جو... [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: Q18021]
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”رہا وہ جو انہوں نے بنو قریظہ کے بارے میں فرمایا، تو وہ اس (روایت) میں ہے جو... [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: Q18021]
حدیث نمبر: 18021
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، قَالَا: أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شُرَحْبِيلَ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ" يَهُودَ بَنِي النَّضِيرِ وَقُرَيْظَةَ حَارَبُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَجْلَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنِي النَّضِيرِ، وَأَقَرَّ قُرَيْظَةَ وَمَنْ عَلَيْهِمْ، حَتَّى حَاربَتْ قُرَيْظَةُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَتَلَ رِجَالَهُمْ، وَقَسَمَ نِسَاءَهُمْ وَأَوْلَادَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، إِلَّا بَعْضَهُمْ لَحِقُوا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّنَهُمْ وَأَسْلَمُوا، وَأَجْلَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهُودَ الْمَدِينَةِ بَنِي قَيْنُقَاعَ، وَهُمْ قَوْمُ عَبْدِ اللهِ - يَعْنِي ابْنَ سَلَامٍ - وَيَهُودَ بَنِي حَارِثَةَ، وَكُلَّ يَهُودِيٍّ بِالْمَدِينَةِ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ،.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بنو نضیر اور بنو قریظہ کے یہود نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لڑائی کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کو جلا وطن کر دیا اور قریظہ والوں کو برقرار رکھا اور ان پر احسان کیا، اس کے بعد بنو قریظہ نے بھی لڑائی کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے مردوں کو قتل کیا اور عورتوں، بچوں اور مال کو مسلمانوں میں تقسیم کر دیا اور ان کو چھوڑ دیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مل گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو امن دیا تو انہوں نے اسلام قبول کر لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے یہودیوں کو جلا وطن کر دیا، ان میں بنو قینقاع جو کہ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کی قوم کے لوگ تھے اور بنو حارثہ کے یہود تھے، اور ہر یہودی جو مدینہ میں تھا اس کو جلا وطن کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18021]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 18021 in Urdu