السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3591. -- باب: ما يفعله بالرجال البالغين منهم
-- باب: ان میں سے بالغ مردوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 18024
وَأَمَّا مَا قَالَ فِي هَوَازِنَ، فَفِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ وَهُوَ ابْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: وَزَعَمَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ مَرْوَانَ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَاهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ حِينَ جَاءَهُ وَفْدُ هَوَازِنَ مُسْلِمِينَ فَسَأَلُوهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَسَبْيَهُمْ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَعِي مَنْ تَرَوْنَ وَأَحَبُّ الْحَدِيثِ إِلِيَّ أَصْدَقُهُ، فَاخْتَارُوا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ، إِمَّا السَّبْيَ، وَإِمَّا الْمَالَ، وَقَدِ اسْتَأْنَيْتُ بِكُمْ". وَكَانَ أَنْظَرَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً حِينَ قَفَلَ مِنَ الطَّائِفِ، فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ رَادٍّ إِلَيْهِمْ إِلَّا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ، قَالُوا: فَإِنَّا نَخْتَارُ سَبْيَنَا. فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُسْلِمِينَ فَأَثْنَى عَلَى اللهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ:" أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ إِخْوَانَكُمْ قَدْ جَاءُونَا تَائِبِينَ، وَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّ إِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُطَيِّبَ ذَلِكَ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَكُونَ عَلَى حَظِّهِ حَتَّى نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ مِنْ أَوَّلِ مَا يُفِيءُ اللهُ عَلَيْنَا". فَقَالَ النَّاسُ: قَدْ طَيَّبْنَا ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ. فَقَالَ ⦗١١٠⦘ رَسُولُ اللهِ:" إِنَّا لَا نَدْرِي مَنْ أَذِنَ مِنْكُمْ مِمَّنْ لَمْ يَأْذَنْ فَارْجِعُوا حَتَّى يَرْفَعَ إِلَيْنَا عُرَفَاؤُكُمْ". فَرَجَعَ النَّاسُ فَكَلَّمَهُمْ عُرَفَاؤُهُمْ، فَرَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُمْ قَدْ طَيَّبُوا وَأَذِنُوا." هَذَا الَّذِي بَلَغَنِي عَنْ سَبْيِ هَوَازِنَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" وَأَسَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ بَدْرٍ مِنْهُمْ مَنْ مَنَّ عَلَيْهِمْ بِلَا شَيْءٍ أَخَذَهُ مِنْهُمْ، وَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَ مِنْهُ فِدْيَةً، وَمِنْهُمْ مَنْ قَتَلَهُ، وَكَانَ الْمَقْتُولَانِ بَعْدَ الْإِسَارِ يَوْمَ بَدْرٍ عُقْبَةَ بْنَ أَبِي مُعَيْطٍ، وَالنَّضْرَ بْنَ الْحَارِثِ".
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہوازن کے وفد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے مال و قیدیوں کی واپسی کا مطالبہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے ساتھ یہ لوگ ہیں جنہیں تم دیکھ رہے ہو اور مجھے سب سے زیادہ محبوب بات وہ ہے جو سب سے سچی ہو۔ تمہیں دونوں میں سے ایک چیز کا اختیار ہے (مال یا قیدی) اور میں تمہیں مہلت دیتا ہوں۔“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف سے واپسی پر دس سے زائد راتوں کی مہلت دی۔ جب انہیں یقین ہو گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف ایک چیز واپس کریں گے تو انہوں نے قیدیوں کی واپسی کا مطالبہ کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی تعریف فرمائی جس کا وہ اصل حق دار تھا، پھر فرمایا: «أَمَّا بَعْدُ» ”اما بعد! تمہارے بھائی توبہ کر کے آ گئے ہیں، میں ان کے قیدی واپس کرنا چاہتا ہوں۔ جو تم میں سے دل کی خوشی سے یہ کام کرنا چاہتا ہے تو کر لے اور جو کوئی ان کا عوض لینا چاہے تو ہم پہلے مالِ فیء سے اس کا بدل واپس کر دیں گے۔“ تو لوگوں نے کہا: ہم نے دل کی خوشی سے واپس کر دیے، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمیں معلوم نہ ہو سکا کون اجازت دیتا ہے اور کون نہیں۔ تم اپنے سرداروں کو بتاؤ، وہ ہمیں خبر دیں۔“ تو لوگوں نے اپنے چوہدریوں سے بات کی تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ لوگوں نے خوشی سے اجازت دے دی ہے۔ یہ حدیث مجھے ہوازن کے قیدیوں کے بارے میں پہنچی۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے قیدیوں سے فدیہ لے کر چھوڑا، بعض سے کچھ بھی نہ لیا اور بعض کو قتل بھی کروا دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دو قیدیوں کو قتل کروایا: عقبہ بن ابی معیط اور نضر بن حارث۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18024]
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے قیدیوں سے فدیہ لے کر چھوڑا، بعض سے کچھ بھی نہ لیا اور بعض کو قتل بھی کروا دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دو قیدیوں کو قتل کروایا: عقبہ بن ابی معیط اور نضر بن حارث۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18024]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري ٤٣١٩»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 18024 in Urdu