السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3591. -- باب: ما يفعله بالرجال البالغين منهم
-- باب: ان میں سے بالغ مردوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 18032
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا أَبُو عُلَاثَةَ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: وَأَقْبَلَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَبْ لِي الزُّبَيْرَ الْيَهُودِيَّ أَجْزِيهِ، فَقَدْ كَانَتْ لَهُ عِنْدِي يَوْمَ بُعَاثٍ. فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ، فَأَقْبَلَ ثَابِتٌ حَتَّى أَتَاهُ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَلْ تَعْرِفُنِي؟ فَقَالَ: نَعَمْ، وَهَلْ يُنْكِرُ الرَّجُلُ أَخَاهُ؟ قَالَ ثَابِتٌ: أَرَدْتُ أَنْ أَجْزِيَكَ الْيَوْمَ بِيَدٍ لَكَ عِنْدِي يَوْمَ بُعَاثٍ. قَالَ: فَافْعَلْ فَإِنَّ الْكَرِيمَ يَجْزِي الْكَرِيمَ. قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ، قَدْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَهَبَكَ لِي. فَأَطْلَقَ عَنْهُ إِسَارَهُ. فَقَالَ الزُّبَيْرُ: لَيْسَ لِي قَائِدٌ وَقَدْ أَخَذْتُمُ امْرَأَتِي وَبَنِيَّ. فَرَجَعَ ثَابِتٌ إِلَى الزُّبَيْرِ، فَقَالَ: رَدَّ إِلَيْكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَتَكَ وَبَنِيكَ. فَقَالَ الزُّبَيْرُ: حَائِطٌ لِي فِيهِ أَعْذُقٌ لَيْسَ لِي وَلَا لِأَهْلِي عَيْشٌ إِلَّا بِهِ. فَرَجَعَ ثَابِتٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَهَبَ لَهُ، فَرَجَعَ ثَابِتٌ إِلَى الزُّبَيْرِ فَقَالَ: قَدْ رَدَّ إِلَيْكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَكَ وَمَالَكَ فَأَسْلِمْ تَسْلَمْ. قَالَ: مَا فَعَلَ الْجَلِيسَانِ، وَذَكَرَ رِجَالَ قَوْمِهِ، قَالَ ثَابِتٌ: قَدْ قُتِلُوا وَفُرِغَ مِنْهُمْ، وَلَعَلَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنْ يَكُونَ أَبْقَاكَ لَخَيْرٍ. قَالَ الزُّبَيْرُ: أَسْأَلُكَ بِاللهِ يَا ثَابِتُ وَبِيَدِي الْخَصِيمِ عِنْدَكَ يَوْمَ بُعَاثٍ إِلَّا أَلْحَقْتَنِي بِهِمْ، فَلَيْسَ فِي الْعَيْشِ خَيْرٌ بَعْدَهُمْ. ⦗١١٤⦘ فَذَكَرَ ذَلِكَ ثَابِتٌ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ بِالزُّبَيْرِ فَقُتِلَ." وَذَكَرَهُ أَيْضًا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَذَكَرَ أَنَّهُ الزُّبَيْرُ بْنُ بَاطَا الْقُرَظِيُّ، وَذَكَرَهُ أَيْضًا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، وَذَكَرَ أَنَّهُ كَانَ يَوْمَئِذٍ كَبِيرًا أَعْمَى".
عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا کہ آپ مجھے زبیر یہودی ہبہ کر دیں تاکہ بعاث کے احسان کا بدلہ دیا جا سکے، جو اس نے میرے اوپر کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہبہ کر دیا۔ سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ زبیر سے پوچھتے ہیں: کیا تم مجھے پہچانتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں! کیا کوئی شخص اپنے بھائی کو نہ پہچانے گا؟ تو سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: میں تیرے بعاث کے دن کے احسان کا بدلہ دینا چاہتا ہوں۔ زبیر یہودی نے کہا: بدلہ دو، معزز انسان کسی معزز کا ہی بدلہ دیتا ہے۔ سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مجھے ہبہ فرما دیا تھا۔ میں نے اپنے اس قیدی کو آزاد کر دیا تو زبیر نے کہا: میری بیوی اور بچے؟ تو سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ نے واپس آ کر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہاری بیوی اور بچے بھی واپس کر دیے ہیں۔ زبیر کہنے لگا: میرا وہ باغ جس پر میرے گھر والوں کی گزر اوقات تھی؟ تو سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بھی ہبہ کر دیا۔ سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارا اہل و عیال اور مال واپس کر دیا ہے، ”مسلمان ہو جاؤ، محفوظ ہو جاؤ گے۔“ تو زبیر نے کہا: میرے ان دو ساتھیوں کا کیا بنا؟ اس نے اپنی قوم کے اشخاص کا تذکرہ کیا۔ سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ان کے قتل سے فراغت حاصل کر لی گئی ہے، شاید کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھلائی کے لیے ہی باقی رکھا ہے، تو زبیر نے کہا: اے ثابت! میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں کہ تم میرے احسان کا بدلہ تب ہی ادا کر سکو گے جب مجھے بھی میرے ان ساتھیوں کے ساتھ ملا دو، کیونکہ ان کے بعد میری زندگی اچھی نہیں ہے، چنانچہ سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا تو زبیر کے قتل کا حکم دے دیا گیا۔ (ب) موسیٰ بن عقبہ رحمہ اللہ ذکر کرتے ہیں کہ وہ اس دن بوڑھا اور نابینا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18032]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 18032 in Urdu