🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3591. -- باب: ما يفعله بالرجال البالغين منهم
-- باب: ان میں سے بالغ مردوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18037
وَأَمَّا الْمُفَادَاةُ بِالنَّفْسِ، فَفِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ح، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ بْنِ وَاقِدٍ الْكِلَابِيُّ، قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَتْ ثَقِيفٌ حُلَفَاءَ لِبَنِي عَقِيلٍ، فَأَسَرَتْ ثَقِيفٌ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَسَرَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا وَأَصَابُوا مَعَهُ الْعَضْبَاءَ، فَأَتَى عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْوَثَاقِ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ، فَأَتَاهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا شَأْنُكَ؟". فقَالَ: بِمَ أَخَذْتَنِي، وَبِمَ أَخَذْتَ سَابِقَ الْحَاجِّ؟ فَقَالَ:" إِعْظَامًا لِذَاكَ أُخِذْتَ بِجَرِيرَةِ حُلَفَائِكَ ثَقِيفٍ". ثُمَّ انْصَرَفَ عَنْهُ، فَنَادَاهُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا رَفِيقًا فَرَجَعَ إِلَيْهِ، فَقَالَ:" مَا شَأْنُكَ؟". فَقَالَ: إِنِّي مُسْلِمٌ. قَالَ:" لَوْ قُلْتَهَا وَأَنْتَ تَمْلِكُ أَمْرَكَ أَفْلَحْتَ كُلَّ الْفَلَاحِ". ثُمَّ انْصَرَفَ عَنْهُ، فَنَادَاهُ: يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ، فَأَتَاهُ فَقَالَ:" مَا شَأْنُكَ؟". فَقَالَ: إِنِّي جَائِعٌ فَأَطْعِمْنِي وَظَمْآنُ فَاسْقِنِي. قَالَ:" هَذِهِ حَاجَتُكَ". قَالَ: فَفُدِيَ بِالرَّجُلَيْنِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ وَغَيْرِهِ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ثقیف بنو عقیل کے حلیف تھے، تو بنو ثقیف نے دو صحابہ کو قیدی بنا لیا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بنو عقیل کے ایک آدمی کو قید کر لیا اور اس کے ساتھ عضباء (اونٹنی) بھی پکڑ لی۔ وہ بندھا ہوا تھا، اسی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس سے گزرے تو اس نے آواز دی: اے محمد! اے محمد! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے اور پوچھا: ”کیا بات ہے؟“ اس نے کہا: آپ نے مجھے کس جرم کی پاداش میں گرفتار کیا ہے؟ اور حاجیوں سے آگے نکلنے والی (اونٹنی عضباء) کو کیوں پکڑا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بڑی بات ہے، تو اپنے حلیف بنو ثقیف کے جرم کی وجہ سے پکڑا گیا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے گئے۔ اس نے آواز دی: اے محمد! اے محمد! آپ صلی اللہ علیہ وسلم رحیم اور رقیق القلب تھے، اس لیے واپس آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تیری کیا حالت ہے؟“ اس نے کہا: میں مسلمان ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بات تو تب کہتا جب تو اپنے معاملے کا مالک تھا تو مکمل فلاح پا لیتا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر چلے گئے۔ اس نے آواز دی: اے محمد! اے محمد! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے اور پوچھا: ”تیری کیا حالت ہے؟“ اس نے کہا: میں بھوکا ہوں، کھانا کھلاؤ، پیاسا ہوں، پانی پلاؤ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تیری ضرورت ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ دو صحابہ کے عوض اس کو چھوڑا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18037]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم ١٦٤»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 18037 in Urdu