🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3593. -- باب: المنع من صبر الكافر بعد الإسار بأن يتخذ غرضا
-- باب: کافر کو قید کرنے کے بعد اسے باندھ کر نشانہ بنانے کی ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18060
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: أَدْرَبْنَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، وَهُوَ أَمِيرُ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ عَلَى الدُّرُوبِ. قَالَ: فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا مِنْ أَرْضِ الرُّومِ فَأَقَمْنَا بِهِ. قَالَ: وَكَانَ أَبُو أَيُّوبَ قَدِ اتَّخَذَ مَسْجِدًا فَكُنَّا نَرُوحُ وَنَجْلِسُ إِلَيْهِ، وَيُصَلِّي لَنَا وَنَسْتَمْتِعُ مِنْ حَدِيثِهِ. قَالَ: فَوَاللهِ إِنَّا لَعَشِيَّةً مَعَهُ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَتَى الْآنَ الْأَمِيرُ بِأَرْبَعَةِ أَعْلَاجٍ مِنَ الرُّومِ، فَأَمَرَ بِهِمْ أَنْ يُصْبَرُوا، فَرُمُوا بِالنَّبْلِ حَتَّى قُتِلُوا، فَقَامَ أَبُو أَيُّوبَ فَزِعًا حَتَّى جَاءَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ خَالِدٍ، فَقَالَ: أَصَبَرْتَهُمْ؟ لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَنْهَى عَنْ صَبْرِ الدَّابَّةِ". وَمَا أُحِبُّ أَنَّ لِي كَذَا وَكَذَا وَأَنِّي صَبَرْتُ دَجَاجَةً. قَالَ: فَدَعَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ بِغِلْمَانٍ لَهُ أَرْبَعَةٍ فَأَعْتَقَهُمْ مَكَانَهَمْ. قَالَ أَبُو زُرْعَةُ: عُبَيْدُ بْنُ يَعْلَى مِنْ أَهْلِ فِلَسْطِينَ مَنْزِلُهُ عَسْقَلَانُ، وَرَوَاهُ أَيْضًا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرٍ.
سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نے عبدالرحمن بن خالد بن ولید رضی اللہ عنہما کے ساتھ ایک جنگ لڑی، ہم نے رومی سرزمین پر پڑاؤ کیا، کہتے ہیں کہ سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے ایک مسجد بنائی، ہم شام کے وقت جا کر ان کی مجلس میں بیٹھ کر ان کی باتوں سے فائدہ حاصل کرتے، کہتے ہیں: ایک شام میں ان کے ساتھ تھا کہ ایک شخص آیا، اس نے کہا کہ ابھی امیر کے پاس رومیوں کے چار کافر (قیدی) لائے گئے تو انہوں نے انہیں باندھنے کا حکم دیا اور تیر اندازی کر کے انہیں ہلاک کر دیا گیا، تو سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ گھبرا کر کھڑے ہوئے اور عبدالرحمن بن خالد رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور فرمانے لگے: کیا آپ نے ان کو باندھا تھا؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”چوپائے کو باندھنے سے منع فرمایا تھا“، میں پسند نہیں کرتا کہ میرے لیے یہ یہ ہو اگرچہ میں ایک مرغی ہی کو کیوں نہ باندھوں، تو عبدالرحمن بن خالد رضی اللہ عنہما نے ان کی جگہ اپنے چار غلام آزاد کروا دیے۔ ابو زرعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبید بن یعلیٰ فلسطین کے تھے، ان کا گھر عسقلان میں تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18060]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ بدون القصة»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 18060 in Urdu