🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3596. -- باب: من يجري عليه الرق
-- باب: اس شخص کا بیان جس پر غلامی نافذ کی جائے گی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18073
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: لَمَّا قَسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَايَا بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَقَعَتْ جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ فِي السَّهْمِ لِثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، أَوْ لِابْنِ عَمٍّ لَهُ، فَكَاتَبَتْهُ عَلَى نَفْسِهَا، وَكَانَتِ امْرَأَةً حُلْوَةً مُلَاحَةً لَا يَرَاهَا أَحَدٌ إِلَّا أَخَذَتْ بِنَفْسِهِ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْتَعِينُهُ فِي كِتَابَتِهَا. قَالَتْ عَائِشَةُ: فَوَاللهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُهَا فَكَرِهْتُهَا، وَقُلْتُ: سَيَرَى مِنْهَا مِثْلَمَا رَأَيْتُ، فَلَمَّا دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَا جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ سَيِّدِ قَوْمِهِ، وَقَدْ أَصَابَنِي مِنَ الْبَلَاءِ مَا لَمْ يَخْفَ عَلَيْكَ، وَقَدْ كَاتَبْتُ عَلَى نَفْسِي فَأَعِنِّي عَلَى كِتَابَتِي. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ أُؤَدِّي عَنْكِ كِتَابَتَكِ وَأَتَزَوَّجُكِ؟". فَقَالَتْ: نَعَمْ. فَفَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَلَغَ النَّاسَ أَنَّهُ قَدْ تَزَوَّجَهَا، فَقَالُوا: أَصْهَارُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلُوا مَا كَانَ فِي أَيْدِيهِمْ مِنْ بَنِي الْمُصْطَلِقِ، فَلَقَدْ أُعْتِقَ بِهَا مِائَةُ أَهْلِ بَيْتٍ مِنْ بَنِي الْمُصْطَلِقِ، فَمَا أَعْلَمُ امْرَأَةً أَعْظَمَ بَرَكَةً مِنْهَا عَلَى قَوْمِهَا".
عروہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مصطلق کی لونڈیاں تقسیم فرمائیں تو سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا ثابت بن قیس بن شماس یا ان کے چچا کے بیٹے کے حصے میں آئیں۔ انہوں نے مکاتبت (آزادی کا معاہدہ) کر لی۔ وہ ایک نہایت شیریں اور خوبصورت خاتون تھیں، جو بھی انہیں دیکھتا ان کا گرویدہ ہو جاتا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی مکاتبت کے بارے میں مدد کا سوال کر دیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ کی قسم! میں نے اس کو اچھا نہ جانا، میں نے (دل میں) کہا: آپ بھی اسی طرح اس سے محسوس کریں جیسے میں نے کیا۔ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: میں جویریہ بنت حارث ہوں، اپنی قوم کے سردار کی بیٹی، میرے اوپر وہ پریشانی آئی ہے جو آپ سے پوشیدہ نہیں ہے۔ میں نے مکاتبت کی ہے جس میں آپ میری مدد فرمائیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا اس سے بھی بہتر، میں تمہاری کتابت ادا کر کے تم سے شادی کر لوں؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کر لیا۔ جب لوگوں کو پتا چلا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شادی کر لی ہے، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سسرال بنو مصطلق کے (قیدیوں کو) آزاد کر دیا، چنانچہ ان کی وجہ سے بنو مصطلق کے سو گھرانے آزاد ہوئے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: مجھے علم نہیں کہ اس خاتون سے بڑھ کر کوئی عورت اپنی قوم کے لیے برکت کا باعث بنی ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18073]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 18073 in Urdu