السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3599. -- باب: النهي عن قصد النساء والولدان بالقتل
-- باب: عورتوں اور بچوں کو جان بوجھ کر قتل کرنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 18089
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ نَاصِحٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ الْخَفَّافَ، ثنا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَزَوْتُ مَعَهُ، فَأَصَبْنَا ظَفَرًا فَقَتَلَ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ حَتَّى قَتَلُوا الذُّرِّيَّةَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا بَالُ أَقْوَامٍ جَاوَزَ بِهِمُ الْقَتْلُ حَتَّى قَتَلُوا الذُّرِّيَّةَ؟". فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّمَا هُمْ أَبْنَاءُ الْمُشْرِكِينَ. قَالَ:" أَلَا إِنَّ خِيَارَكُمْ أَبْنَاءُ الْمُشْرِكِينَ". ثُمَّ قَالَ:" لَا تَقْتُلُوا الذُّرِّيَّةَ". قَالَهَا ثَلَاثًا، وَقَالَ:" كُلُّ نَسَمَةٍ تُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ حَتَّى يُعْرِبَ عَنْهَا لِسَانُهَا، فَأَبَوَاهَا يُهَوِّدَانِهَا وَيُنَصِّرَانِهَا". قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ:" مَعْنَى قَوْلِهِ:" كُلُّ نَسَمَةٍ تُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ"، يَعْنِي الْفِطْرَةَ الَّتِي فَطَرَهُمْ عَلَيْهَا حِينَ أَخْرَجَهُمْ مِنْ صُلْبِ آدَمَ فَأَقَرُّوا بِتَوْحِيدِهِ. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ هُشَيْمٌ عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، وَذَكَرَ فِيهِ سَمَاعَ الْحَسَنِ مِنَ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ،.
سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر غزوہ کیا۔ ہمیں کامیابی ملی تو لوگوں نے قتل و غارت کی، حتیٰ کہ بچوں کو بھی قتل کر دیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ قتل کے جواز میں وہ بچوں کو بھی قتل کرتے ہیں؟“ ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ مشرکین کی اولاد ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے بہترین لوگ مشرکین ہی کے بیٹے تو ہیں۔“ پھر فرمایا: ”بچوں کو قتل نہ کرو“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تین مرتبہ فرمایا۔ پھر فرمایا: ”ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کی زبان فصیح ہو جاتی ہے تو اس کے والدین اس کو یہودی یا عیسائی بنا دیتے ہیں۔“
(ب) ابو جعفر احمد بن عبید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا معنیٰ کہ ہر جان فطرت پر پیدا ہوتی ہے یعنی وہ فطرت جب انہیں صلبِ آدم علیہ السلام سے نکالا گیا تھا اور انہوں نے توحید کا اقرار کیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18089]
(ب) ابو جعفر احمد بن عبید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا معنیٰ کہ ہر جان فطرت پر پیدا ہوتی ہے یعنی وہ فطرت جب انہیں صلبِ آدم علیہ السلام سے نکالا گیا تھا اور انہوں نے توحید کا اقرار کیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18089]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 18089 in Urdu