السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3600. -- باب: قتل النساء والصبيان في التبييت والغارة من غير قصد، وما ورد في إباحة التبييت
-- باب: شب خون اور غارت گری میں غیر ارادی طور پر عورتوں اور بچوں کے قتل ہوجانے، اور شب خون کے جواز کے متعلق کیا وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 18093
فَإِنَّمَا قَالَ ذَلِكَ اسْتِدْلَالًا بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْبِسْطَامِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا جَعْفَرٌ الْفَارَيَابِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِالْأَبْوَاءِ أَوْ بِوَدَّانَ، فَأَهْدَيْتُ إِلَيْهِ لَحْمَ حِمَارِ وَحْشٍ، فَرَدَّهُ عَلَيَّ فَلَمَّا رَأَى الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِي، قَالَ:" إِنَّهُ لَيْسَ بِنَا رَدٌّ عَلَيْكَ وَلَكِنَّا حُرُمٌ".
سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میں ابواء یا ودان نامی جگہ پر تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے قریب سے گزرے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نیل گائے کا گوشت تحفے میں پیش کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کر دیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے چہرے پر ناگواری کے آثار دیکھے تو فرمایا: ”ہم نے اسے کسی اور وجہ سے واپس نہیں کیا بجز اس کے کہ ہم حالتِ احرام میں ہیں۔“
وہ بیان فرماتے ہیں کہ مشرکین کی اولاد کے بارے میں پوچھا گیا کہ جب شب خون کے وقت ان کی عورتیں اور بچے مارے جائیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ بھی انہی میں سے ہیں۔“
وہ کہتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”چراگاہ صرف اللہ اور اس کے رسول کی ہے۔“ علی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سفیان رحمہ اللہ نے مجلس کے دوران دو مرتبہ یہ بات کہی۔
سفیان رحمہ اللہ جب اس حدیث کو بیان فرماتے تو کہتے تھے کہ ابن کعب بن مالک اپنے چچا سے نقل فرماتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ابن ابی الحقیق کی طرف بھیجا تو عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18093]
وہ بیان فرماتے ہیں کہ مشرکین کی اولاد کے بارے میں پوچھا گیا کہ جب شب خون کے وقت ان کی عورتیں اور بچے مارے جائیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ بھی انہی میں سے ہیں۔“
وہ کہتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”چراگاہ صرف اللہ اور اس کے رسول کی ہے۔“ علی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سفیان رحمہ اللہ نے مجلس کے دوران دو مرتبہ یہ بات کہی۔
سفیان رحمہ اللہ جب اس حدیث کو بیان فرماتے تو کہتے تھے کہ ابن کعب بن مالک اپنے چچا سے نقل فرماتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ابن ابی الحقیق کی طرف بھیجا تو عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18093]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 18093 in Urdu