السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3601. -- قتل أبي رافع عبد الله بن أبي الحقيق، ويقال: سلام بن أبي الحقيق
-- ابو رافع عبداللہ بن ابی حقیق (ایک قول کے مطابق سلام بن ابی حقیق) کے قتل کا بیان۔
حدیث نمبر: 18100
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُوسَى الشَّطَوِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ:" بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي رَافِعٍ الْيَهُودِيِّ وَكَانَ يَسْكُنُ أَرْضَ الْحِجَازِ، فَنَدَبَ لَهُ سَرَايَا مِنَ الْأَنْصَارِ، وَأَمَرَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَتِيكٍ، وَكَانَ أَبُو رَافِعٍ يُؤْذِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُعِينُ عَلَيْهِ، وَكَانَ فِي حَصِينٍ لَهُ بِأَرْضِ الْحِجَازِ، فَلَمَّا دَنَوْا مِنْهْ غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَرَاحَ النَّاسُ بِسَرْحِهِمْ، فَقَالَ لَهُمْ عَبْدُ اللهِ: اجْلِسُوا مَكَانَكُمْ فَإِنِّي مُنْطَلِقٌ فَمُتَطَلِّعٌ الْأَبْوَابَ لَعَلِّي أَدْخُلُ فَأَقْتُلُهُ. حَتَّى إِذَا دَنَا مِنَ الْبَابِ تَقَنَّعَ بِثَوْبِهِ كَأَنَّهُ يَقْضِي حَاجَةً، وَقَدْ دَخَلَ النَّاسُ فَهَتَفَ بِهِ الْبَوَّابُ، فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللهِ إِنْ كُنْتَ تُرِيدُ أَنْ تَدْخُلَ فَادْخُلْ، فَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُغْلِقَ الْبَابَ، قَالَ: فَدَخَلْتُ، فَلَمَّا دَخَلَ النَّاسُ أَغْلَقَ الْبَابَ ثُمَّ عَلَّقَ الْأَقَالِيدَ عَلَى وَتَدٍ. قَالَ: فَقُمْتُ إِلَى الْأَقَالِيدِ فَأَخَذْتُهَا فَفَتَحْتُ الْبَابَ، وَكَانَ أَبُو رَافِعٍ يُسْمَرُ عِنْدَهُ فِي عَلَالِيَّ لَهُ، فَلَمَّا نَزَلَ عَنْهُ أَهْلُ سَمَرِهِ صَعِدْتُ إِلَيْهِ، فَجَعَلْتُ كُلَّمَا فَتَحْتُ بَابًا أَغْلَقْتُ عَلَيَّ مِنْ دَاخِلٍ، فَقُلْتُ: إِنَّ الْقَوْمَ نَذِرُوا بِي لَمْ يَخْلُصُوا إِلِيَّ حَتَّى أَقْتُلَهُ. قَالَ: فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ، فَإِذَا هُوَ فِي بَيْتٍ مُظْلِمٍ وَسْطَ عِيَالِهِ لَا أَدْرِي أَيْنَ هُوَ مِنَ الْبَيْتِ، فَقُلْتُ: أَبَا رَافِعٍ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟ فَأَهْوِي نَحْوَ الصَّوْتِ فَأَضْرِبُهُ ضَرْبَةً غَيْرَ طَائِلٍ وَأَنَا دَهِشٌ، فَلَمْ أُغْنِ عَنْهُ شَيْئًا وَصَاحَ، فَخَرَجْتُ مِنَ الْبَيْتِ فَمَكَثْتُ غَيْرَ بَعِيدٍ، ثُمَّ جِئْتُ فَقُلْتُ: مَا هَذَا الصَّوْتُ يَا أَبَا رَافِعٍ، فَقَالَ: لِأُمِّكَ الْوَيْلُ رَجُلٌ فِي الْبَيْتِ ضَرَبَنِي قَبْلُ بِالسَّيْفِ، قَالَ: فَأَضْرِبُهُ ضَرْبَةً ثَانِيَةً وَلَمْ أَقْتُلْهُ، ثُمَّ وَضَعْتُ ضَبَابَةَ السَّيْفِ فِي بَطْنِهِ ثُمَّ اتَّكَيْتُ عَلَيْهِ حَتَّى سَمِعْتُهُ أَخَذَ فِي ظَهْرِهِ، فَعَرَفْتُ أَنِّي قَدْ قَتَلْتُهُ، فَجَعَلْتُ أَفْتَحُ الْأَبْوَابَ بَابًا بَابًا حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى دَرَجَةٍ، فَوَضَعْتُ رِجْلِي وَأَنَا أَرَى أَنِّي قَدِ انْتَهَيْتُ إِلَى الْأَرْضِ فَوَقَعْتُ فِي لَيْلَةٍ مُقْمِرَةٍ، فَانْكَسَرَتْ رِجْلِي فَعَصَبْتُهَا بِعِمَامَتِي، ثُمَّ إِنِّي انْطَلَقْتُ حَتَّى جَلَسْتُ عِنْدَ الْبَابِ، قُلْتُ: وَاللهِ لَا أَخْرُجُ اللَّيْلَةَ حَتَّى أَعْلَمَ أَنِّي قَدْ قَتَلْتُهُ أَوْ لَا، فَلَمَّا صَاحَ الدِّيكُ قَامَ النَّاعِي عَلَى السُّورِ، فَقَالَ: أَنْعَى أَبَا رَافِعٍ تَاجِرَ أَهْلِ الْحِجَازِ، فَانْطَلَقْتُ أَتَعَجَّلُ إِلَى أَصْحَابِي، فَقُلْتُ: النَّجَاءَ، قَدْ قَتَلَ اللهُ أَبَا رَافِعٍ حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَدَّثْتُهُ فَقَالَ:" ابْسُطْ رِجْلَكَ"، فَبَسَطْتُهَا فَمَسَحَهَا فَكَأَنَّمَا لَمْ أَشْتَكِهَا قَطُّ. ⦗١٣٨⦘.
سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو رافع یہودی، جو حجاز میں رہائش پذیر تھا، اس کے لیے ایک انصاری گروہ کی ذمہ داری لگائی تھی، جس کے امیر سیدنا عبداللہ بن عتیک رضی اللہ عنہ تھے۔ ابو رافع نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دیتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مدد کرتا تھا، اس کا قلعہ حجاز میں تھا۔ جب صحابہ کا یہ گروہ اس کے قریب ہوا تو سورج غروب ہونے کو تھا، لوگ اپنے مویشی لے کر جا رہے تھے تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ”تم اپنی جگہ ٹھہرو، میں جا کر دروازے کے متعلق معلومات حاصل کرتا ہوں، شاید میں داخل ہو کر اسے قتل کر سکوں۔“ جب وہ دروازے کے قریب ہوئے تو اپنا کپڑا اس طرح لپیٹ لیا جیسے کوئی قضائے حاجت کرنے والا کرتا ہے۔ لوگ قلعہ میں داخل ہو گئے تو دربان نے آواز لگائی: ”اے اللہ کے بندے! اگر اندر آنا ہے تو آ جاؤ، میں دروازہ بند کرنا چاہتا ہوں۔“ راوی کہتے ہیں کہ میں بھی داخل ہو گیا۔ جب لوگ سارے داخل ہو گئے، اس نے دروازہ بند کر دیا اور چابیاں ایک تند پر لٹکا دیں۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”میں نے چابیاں لے کر دروازہ کھول دیا اور ابو رافع کے پاس رات کو قصہ گو موجود ہوتے۔ جب رات کو باتیں کرنے والے آ گئے تو میں ابو رافع کی طرف چڑھا۔ میں جب دروازہ کھولتا تو اندر سے دروازہ بند کر لیتا، میں نے کہا: میرے قتل کرنے تک لوگ مجھے چھوڑے رکھیں۔ جب میں اس تک پہنچا، وہ اندھیرے گھر اور اپنے اہل و عیال کے درمیان میں تھا۔ مجھے معلوم نہ تھا کہ وہ کس جگہ ہے، میں نے کہا: ابو رافع! اس نے کہا: یہ کون ہے؟ میں نے آواز کی طرف مائل ہو کر وار کیا لیکن بے فائدہ، میں گھبرا گیا، مجھے کچھ فائدہ نہ ہوا۔ وہ چیخا، میں گھر سے نکل کر زیادہ دور نہ گیا، پھر میں آیا اور میں نے پوچھا: اے ابو رافع! یہ آواز کیسی تھی؟ اس نے کہا: تیری ماں کی ہلاکت ہو، گھر میں کوئی شخص ہے جو مجھے تلوار سے مار رہا ہے۔“ عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”میں نے دوسرا حملہ کیا لیکن میں اسے قتل نہ کر سکا، پھر میں نے تلوار کی نوک اس کے پیٹ میں رکھ کر اوپر سے زور دیا تو تلوار کے دوسری طرف نکلنے کی آواز سن لی، تو میں نے جان لیا کہ میں نے اسے قتل کر دیا ہے۔ پھر میں ایک ایک دروازہ کھولتے کھولتے سیڑھیوں تک آ گیا۔ میں نے پاؤں رکھا اور خیال کیا کہ میں زمین تک پہنچ گیا ہوں، میں چاندنی رات میں گر پڑا، میری ٹانگ ٹوٹ گئی تو میں نے اپنی پگڑی سے باندھ لی۔ پھر میں نکل کر دروازے کے پاس بیٹھ گیا۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! اتنی دیر نہ جاؤں گا جب تک معلوم نہ کر لوں کہ میں نے اس کو قتل کر دیا ہے یا نہیں۔ جب مرغ نے اذان دی تو دیوار پر ایک موت کی خبر دینے والے نے کہا: میں ابو رافع کی موت کی خبر دیتا ہوں۔ میں جلدی سے اپنے ساتھیوں کے پاس گیا، میں نے کہا: اللہ نے ابو رافع کو ہلاک کر دیا ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پاؤں پھیلاؤ۔“ میں نے پاؤں پھیلایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ مبارک پھیرا تو یوں محسوس ہوا کہ مجھے کبھی تکلیف ہوئی ہی نہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18100]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري ٣٠٢٢-٣٠٢٣-٤٠٣٨-٤٠٤٠»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 18100 in Urdu