🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3603. -- باب: المرأة تقاتل فتقتل
-- باب: اگر عورت جنگ کرے تو اسے قتل کر دیا جائے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18107
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: مَا قَتَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ إِلَّا امْرَأَةً وَاحِدَةً، وَاللهِ إِنَّهَا عِنْدِي لَتَضْحَكُ ظَهْرًا لِبَطْنٍ، وَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَقْتُلُ رِجَالَهُمْ بِالسُّوقِ إِذْ هَتَفَ هَاتِفٌ بِاسْمِهَا أَيْنَ فُلَانَةُ؟ فَقَالَتْ: أَنَا وَاللهِ. فَقُلْتُ: وَيْلَكِ مَا لَكِ؟. فَقَالَتْ: أُقْتَلُ وَاللهِ. قُلْتُ: وَلِمَ؟. قَالَتْ: لِحَدَثٍ أَحْدَثْتُهُ. فَانْطُلِقَ بِهَا فَضُرِبَ عُنُقُهَا، فَمَا أَنْسَى عَجَبًا مِنْهَا طِيبَةَ نَفْسِهَا، وَكَثْرَةَ ضَحِكِهَا، وَقَدْ عَرَفَتْ أَنَّهَا تُقْتَلُ. ذَكَرَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي رِوَايَةِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَغْدَادِيِّ، عَنْهُ عَنْ أَصْحَابِهِ، أَنَّهَا كَانَتْ دَلَّتْ عَلَى مَحْمُودِ بْنِ مَسْلَمَةَ دَلَّتْ عَلَيْهِ رَحًى فَقَتَلَتْهُ، فَقُتِلَتْ بِذَلِكَ. قَالَ: وَقَدْ يُحْتَمَلُ أَنْ تَكُونَ أَسْلَمَتْ وَارْتَدَّتْ وَلَحِقَتْ بِقَوْمِهَا، فَقَتَلَهَا لِذَلِكَ، وَيُحْتَمَلُ غَيْرُ ذَلِكَ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لَمْ يَصِحَّ الْخَبَرُ لِأِيِّ مَعْنًى قَتَلَهَا، وَقَدْ قِيلَ إِنَّ مَحْمُودَ بْنَ مَسْلَمَةَ قُتِلَ بِخَيْبَرَ وَلَمْ يُقْتَلْ يَوْمَ بَنِي قُرَيْظَةَ".
عروہ، سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ کی صرف ایک عورت قتل کی۔ اللہ کی قسم! وہ میرے پاس خوب ہنس رہی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے مردوں کو قتل کر رہے تھے۔ اچانک آواز دینے والے نے اس کا نام لے کر آواز دی: فلاں عورت کہاں ہے؟ اس نے کہا: میں ہوں۔ میں نے کہا: تجھے کیا ہے؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں قتل کر دی جاؤں گی۔ میں نے پوچھا: کیوں؟ اس نے کہا: ایسے کام کی وجہ سے جس کا میں سبب بنی، اس کو لے جا کر گردن اتار دی گئی۔ سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں اس عجیب واقعہ کو نہیں بھولی کہ وہ اتنی خوش اور ہنس رہی تھی حالانکہ اسے معلوم تھا کہ وہ قتل کر دی جائے گی۔ (ب) امام شافعی رحمہ اللہ ابو عبدالرحمن بغدادی کی روایت میں اپنے اصحاب سے نقل فرماتے ہیں کہ یہ ایسی عورت تھی جس نے محمود بن مسلمہ رضی اللہ عنہ پر چکی گرا کر قتل کر دیا تھا جس کے عوض اس کو قتل کیا گیا۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اسلام لانے کے بعد مرتد ہو کر اپنی قوم سے جا ملی، اس وجہ سے قتل کیا گیا اس کے علاوہ بھی احتمال ہیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کوئی حدیث صحیح نہیں کہ کس وجہ سے اس عورت کو قتل کیا گیا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ محمود بن مسلمہ رضی اللہ عنہ خیبر میں قتل کیے گئے۔ وہ بنو قریظہ کے دن قتل نہ ہوئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18107]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 18107 in Urdu