السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3608. -- باب: الأسير يوثق
-- باب: قیدی کو مضبوطی سے باندھا جائے گا۔
حدیث نمبر: 18147
حَدَّثَنَا الشَّيْخُ الْإِمَامُ أَبُو الطَّيِّبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ رَحِمَهُ اللهُ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ، أنبأ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا بِأَسِيرٍ وَعِنْدَهَا نِسْوَةٌ، فَلَهَيْنَهَا عَنْهُ، فَذَهَبَ الْأَسِيرُ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" يَا عَائِشَةُ أَيْنَ الْأَسِيرُ؟". فَقَالَتْ: نِسْوَةٌ كُنَّ عِنْدِي فَلَهَيْنَنِي عَنْهُ فَذَهَبَ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَطَعَ اللهُ يَدَكِ". وَخَرَجَ فَأَرْسَلَ فِي أَثَرِهِ فَجِيءَ بِهِ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِذَا عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَدْ أَخْرَجَتْ يَدَيْهَا، فَقَالَ:" مَا لَكِ؟". قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ. إِنَّكَ دَعَوْتَ عَلَيَّ بِقَطْعِ يَدِيَّ وَإِنِّي مُعَلِّقَةٌ يَدِيَّ أَنْتَظِرُ مَنْ يَقْطَعُهَا. قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَجُنِنْتِ؟". ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ وَقَالَ:" اللهُمَّ مَنْ كُنْتُ دَعَوْتُ عَلَيْهِ فَاجْعَلْهُ لَهُ كَفَّارَةً وَطَهُورًا".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک قیدی کو لے کر ان کے پاس آئے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس عورتیں تھیں تو ان عورتوں نے قیدی سے غافل کر دیا۔ قیدی چلا گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اے عائشہ! قیدی کہاں ہے؟“ فرماتی ہیں: میرے پاس عورتیں تھیں جنہوں نے مجھے اس سے غافل کر دیا، وہ چلا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «قَطَعَ اللّٰهُ يَدَكِ» ”اللہ تیرا ہاتھ کاٹ دے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے گئے اور اس قیدی کے پیچھے کسی کو روانہ کیا تو اسے واپس لایا گیا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے ہاتھوں کو نکال کر بیٹھی ہوئی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تجھے کیا ہے؟“ کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! آپ نے میرے خلاف ہاتھ کاٹنے کی بددعا فرمائی، میں ہاتھ لٹکا کر بیٹھی ہوں اس انتظار میں کہ کون میرے ہاتھ کاٹتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو پاگل ہو گئی ہے؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور فرمایا: «اَللّٰهُمَّ مَنْ كُنْتُ دَعَوْتُ عَلَيْهِ فَاجْعَلْهُ لَهُ كَفَّارَةً وَطَهُورًا» ”اے اللہ! جس کے خلاف میں نے بددعا کی ہو، اسے اس کے لیے کفارہ اور پاکیزگی کا ذریعہ بنا دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18147]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 18147 in Urdu