السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3609. -- باب: ترك قتل من لا قتال فيه من الرهبان والكبير وغيرهما
-- باب: راہبوں، بوڑھوں اور ان جیسے دیگر افراد کو قتل نہ کرنے کا بیان جو جنگ میں حصہ نہیں لیتے۔
حدیث نمبر: 18152
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعَثَ يَزِيدَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ إِلَى الشَّامِ، فَمَشَى مَعَهُ يُشَيِّعُهُ، قَالَ يَزِيدُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ: إِنِّي أَكْرَهُ أَنْ تَكُونَ مَاشِيًا وَأَنَا رَاكِبٌ. قَالَ: فَقَالَ:" إِنَّكَ خَرَجْتَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللهِ، وَإِنِّي أَحْتَسِبُ فِي مَشْيِي هَذَا مَعَكَ. ثُمَّ أَوْصَاهُ، فَقَالَ:" لَا تَقْتُلُوا صَبِيًّا، وَلَا امْرَأَةً، وَلَا شَيْخًا كَبِيرًا، وَلَا مَرِيضًا، وَلَا رَاهِبًا، وَلَا تَقْطَعُوا مُثْمِرًا، وَلَا تُخْرِبُوا عَامِرًا، وَلَا تَذْبَحُوا بَعِيرًا وَلَا بَقَرَةً إِلَّا لِمَأْكَلٍ، وَلَا تُغْرِقُوا نَخْلًا، وَلَا تُحْرِقُوهُ".
ابو عمران جونی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کو شام کی جانب روانہ کیا تو ان کے ساتھ پیدل چلے۔ یزید نے کہا: مجھے اچھا نہیں لگتا کہ آپ پیادہ ہوں اور میں سوار ہوں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ اللہ کے راستے میں غزوہ کے لیے جا رہے ہیں جبکہ میں پیادہ چلنے میں ثواب کی نیت کیے ہوئے ہوں۔ پھر ان کو وصیت فرمائی کہ بچے، عورت، بہت زیادہ بوڑھے، بیمار اور راہب کو قتل نہ کرنا، پھل دار درخت نہ کاٹنا، آباد زمین کو ویران نہ کرنا، گائے اور اونٹ صرف کھانے کے لیے ذبح کرنا اور کھجور کے درختوں کو ڈبونا اور جلانا نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18152]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 18152 in Urdu