السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3611. -- باب: أمان العبد
-- باب: غلام کی طرف سے امان دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 18170
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأُمَوِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: كُنَّا مُصَافِّي الْعَدُوِّ. قَالَ: فَكَتَبَ عَبْدٌ فِي سَهْمٍ أَمَانًا لِلْمُشْرِكِينَ فَرَمَاهُمْ بِهِ، فَجَاءُوا فَقَالُوا: قَدْ أَمَّنْتُمُونَا. قَالُوا: لَمْ نُؤَمِّنْكُمْ إِنَّمَا أَمَّنَكُمْ عَبْدٌ. فَكَتَبُوا فِيهِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَكَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" إِنَّ الْعَبْدَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَذِمَّتُهُ ذِمَّتُهُمْ، وَأَمَّنَهُمْ".
فضیل بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم دشمن کا مقابلہ کرتے تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ ایک غلام نے ایک تیر پر مشرکین کے لیے امان لکھ کر وہ تیر ان کی طرف پھینک دیا۔ مشرکین نے آ کر کہا: ”تم نے ہمیں پناہ دی ہے“، صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: ”ہم نے تمہیں پناہ نہیں دی، تمہیں غلام نے پناہ دی ہے“، تو انہوں نے اس بارے میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خط لکھا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”غلام مسلمانوں میں سے ہیں، ان کی پناہ مسلمانوں کی پناہ شمار کی جائے گی“، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مشرکین کو پناہ دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18170]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 18170 in Urdu