السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3616. -- باب: جواز انفراد الرجل والرجال بالغزو في بلاد العدو استدلالا بجواز التقدم على الجماعة وإن كان الأغلب أنها ستقتله
-- باب: دشمن کے علاقے میں کسی ایک یا چند افراد کا جہاد کرنا جائز ہے، اس بات سے استدلال کرتے ہوئے کہ جماعت سے آگے بڑھ کر حملہ کرنا جائز ہے، اگرچہ غالب گمان یہی ہو کہ دشمن انہیں قتل کر دے گا۔
حدیث نمبر: 18197
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُسَيْسَةَ عَيْنًا يَنْظُرُ مَا صَنَعَتْ عِيرُ أَبِي سُفْيَانَ، فَجَاءَ وَمَا فِي الْبَيْتِ غَيْرِي، وَغَيْرُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَا أَدْرِي مَا اسْتَثْنَى بَعْضَ نِسَائِهِ فَحَدَّثَهُ الْحَدِيثَ، قَالَ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَكَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنَّ لَنَا طِلْبَةً، فَمَنْ كَانَ ظَهْرُهُ حَاضِرًا فَلْيَرْكَبْ مَعَنَا". فَجَعَلَ رِجَالٌ يَسْتَأْذِنُونَ فِي ظُهْرَانِهِمْ فِي عُلْوِ الْمَدِينَةِ، قَالَ:" لَا إِلَّا مَنْ كَانَ ظَهْرُهُ حَاضِرًا". فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَتَّى سَبَقُوا الْمُشْرِكِينَ إِلَى بَدْرٍ، وَجَاءَ الْمُشْرِكُونَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُقْدِمَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ إِلَى شَيْءٍ حَتَّى أَكُونَ أَنَا أُوذِنُهُ". فَدَنَا الْمُشْرِكُونَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُومُوا إِلَى جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ". قَالَ: يَقُولُ عُمَيْرُ بْنُ الْحُمَامِ الْأَنْصَارِيُّ: يَا رَسُولَ اللهِ، جَنَّةٌ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ؟ قَالَ:" نَعَمْ". قَالَ: بَخٍ بَخٍ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا حَمَلَكَ عَلَى قَوْلِكَ بَخٍ بَخٍ؟". قَالَ: لَا وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ إِلَّا رَجَاءَ أَنْ أَكُونَ مِنْ أَهْلِهَا. قَالَ:" فَإِنَّكَ مِنْ أَهْلِهَا". فَأَخْرَجَ تَمَرَاتٍ مِنْ قَرَنِهِ فَجَعَلَ يَأْكُلُ مِنْهُنَّ، ثُمَّ قَالَ: لَئِنْ أَنَا حَيِيتُ حَتَّى آكُلَ تَمَرَاتِي هَذِهِ إِنَّهَا لَحَيَاةٌ طَوِيلَةٌ. قَالَ: فَرَمَى بِمَا كَانَ مَعَهُ مِنَ التَّمْرِ ثُمَّ قَاتَلَهُمْ حَتَّى قُتِلَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ وَمُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، وَغَيْرِهِمَا، عَنْ أَبِي النَّضْرِ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «بَسْبَسَةَ» ”بسبسہ“ کو جاسوس بنا کر روانہ کیا تاکہ وہ دیکھیں کہ ابوسفیان کا لشکر کیا کر رہا ہے؟ جب وہ واپس آئے تو (گھر میں) میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کوئی نہ تھا، راوی کہتے ہیں کہ مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے (اپنی) بعض ازواج کا استثناء کیا (یا نہیں)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (باہر) نکلے اور فرمایا: ”جس کے پاس سواری (تیار) ہو وہ ہمارے ساتھ چلے۔“
بعض لوگوں نے اجازت طلب کی کہ وہ مدینہ کے بالائی علاقے سے اپنی سواریاں لے آئیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، (صرف وہی چلے) جس کے پاس سواری (ابھی) موجود ہو۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم روانہ ہوئے اور بدر کے مقام پر مشرکین سے پہلے پہنچ گئے، پھر مشرکین بھی آ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی بھی کسی چیز کی طرف پیش قدمی نہ کرے یہاں تک کہ میں (اجازت دے دوں)۔“ جب مشرکین قریب آ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس جنت کی طرف اٹھو (دوڑو) جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا عمیر بن حمام انصاری رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا جنت کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں!“ انہوں نے «بَخٍ بَخٍ» ”واہ واہ!“ کے کلمات کہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تجھے کس چیز نے ابھارا کہ تو «بَخٍ بَخٍ» کے کلمات کہے؟“ انہوں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! صرف اس امید پر کہ میں بھی اس کے باسیوں میں سے ہو جاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقیناً تو اس کے باسیوں میں سے ہے۔“ پھر انہوں نے اپنے ترکش سے کچھ کھجوریں نکالیں اور انہیں کھانا شروع کیا، پھر کہنے لگے: اگر میں یہ کھجوریں کھانے تک زندہ رہا تو یہ زندگی تو بہت لمبی ہو جائے گی۔ راوی کہتے ہیں: پھر انہوں نے وہ کھجوریں پھینک دیں اور مشرکین سے لڑنے لگے یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18197]
بعض لوگوں نے اجازت طلب کی کہ وہ مدینہ کے بالائی علاقے سے اپنی سواریاں لے آئیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، (صرف وہی چلے) جس کے پاس سواری (ابھی) موجود ہو۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم روانہ ہوئے اور بدر کے مقام پر مشرکین سے پہلے پہنچ گئے، پھر مشرکین بھی آ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی بھی کسی چیز کی طرف پیش قدمی نہ کرے یہاں تک کہ میں (اجازت دے دوں)۔“ جب مشرکین قریب آ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس جنت کی طرف اٹھو (دوڑو) جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا عمیر بن حمام انصاری رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا جنت کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں!“ انہوں نے «بَخٍ بَخٍ» ”واہ واہ!“ کے کلمات کہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تجھے کس چیز نے ابھارا کہ تو «بَخٍ بَخٍ» کے کلمات کہے؟“ انہوں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! صرف اس امید پر کہ میں بھی اس کے باسیوں میں سے ہو جاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقیناً تو اس کے باسیوں میں سے ہے۔“ پھر انہوں نے اپنے ترکش سے کچھ کھجوریں نکالیں اور انہیں کھانا شروع کیا، پھر کہنے لگے: اگر میں یہ کھجوریں کھانے تک زندہ رہا تو یہ زندگی تو بہت لمبی ہو جائے گی۔ راوی کہتے ہیں: پھر انہوں نے وہ کھجوریں پھینک دیں اور مشرکین سے لڑنے لگے یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18197]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم ١٩٠١»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 18197 in Urdu