🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3623. -- باب: دعاء من لم تبلغه الدعوة من المشركين وجوبا ودعاء من بلغته نظرا
-- باب: مشرکین میں سے جنہیں (اسلام کی) دعوت نہیں پہنچی انہیں دعوت دینا واجب ہے، اور جنہیں پہنچ چکی ہے انہیں از راہِ مصلحت دعوت دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18230
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ خَيْبَرَ:" لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ رَجُلًا يَفْتَحُ اللهُ عَلَى يَدَيْهِ". فَبَاتَ النَّاسُ يَدُوكُونَ أَيُّهُمْ يُعْطَاهَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ غَدَوْا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ⦗١٨١⦘ كُلُّهُمْ يَرْجُو أَنْ يُعْطَاهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيْنَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ؟". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ هُوَ يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ. فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَبَصَقَ فِي عَيْنِهِ وَدَعَا لَهُ فَبَرَأَ مَكَانَهُ، حَتَّى لَكَأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِهِ شَيْءٌ، فَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أُقَاتِلُهُمْ حَتَّى يَكُونُوا مِثْلَنَا. قَالَ:" عَلَى رِسْلِكَ، انْفُذْ حَتَّى تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ، فَوَاللهِ لَأَنْ يَهْدِيَ اللهُ بِكَ الرَّجُلَ الْوَاحِدَ خَيْرٌ لَكَ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ.
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیبر کے دن سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”میں جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ فتح عطا فرمائیں گے۔“ لوگ رات کو باتیں کرتے رہے کہ جھنڈا کس کو دیا جائے گا۔ صبح کے وقت لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس امید سے گئے کہ جھنڈا انہیں دیا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہاں ہیں؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان کی آنکھیں خراب ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلوایا اور ان کی آنکھوں میں لعابِ دہن ڈالا اور ان کے لیے دعا کی۔ وہ اسی وقت تندرست ہو گئے گویا کہ انہیں کوئی بیماری تھی ہی نہیں تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جھنڈا دیا تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم ان سے لڑائی کریں یہاں تک کہ وہ ہماری طرح ہو جائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آرام سے چلو یہاں تک کہ ان کے میدان میں اترو، پھر ان کو اسلام کی دعوت دو اور ان کو خبر دو کہ کیا چیز ان پر حقوق سے واجب ہے۔ اللہ کی قسم! اگر اللہ تیری وجہ سے کسی ایک شخص کو ہدایت دے تو یہ تیرے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18230]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 18230 in Urdu