السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3631. -- باب: الحربي يدخل بأمان وله مال في دار الحرب ثم يسلم أو يسلم في دار الحرب
-- باب: حربی کافر جو امان لے کر آئے اور دار الحرب میں اس کا مال موجود ہو، پھر وہ اسلام لے آئے یا دار الحرب میں ہی اسلام لے آئے (تو اس کے مال کا حکم)۔
حدیث نمبر: 18264
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَبُو حَفْصٍ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا أَبَانُ، قَالَ عُمَرُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ صَخْرٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَا ثَقِيفًا ⦗١٩٣⦘ فَلَمَّا أَنْ سَمِعَ ذَلِكَ صَخْرٌ رَكِبَ فِي خَيْلٍ يَمُدُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدَ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِ انْصَرَفَ وَلَمْ يَفْتَحْ، فَجَعَلَ صَخْرٌ حِينَئِذٍ عَهْدَ اللهِ وَذِمَّتَهُ أَنْ لَا يُفَارِقَ هَذَا الْقَصْرَ حَتَّى يَنْزِلُوا عَلَى حُكْمِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يُفَارِقْهُمْ حَتَّى نَزَلُوا عَلَى حُكْمِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ صَخْرٌ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ ثَقِيفًا قَدْ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِكَ يَا رَسُولَ اللهِ، وَأَنَا مُقْبِلٌ إِلَيْهِمْ وَهُمْ فِي خَيْلٍ. فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ جَامِعَةً فَدَعَا لِأَحْمَسَ عَشْرَ دَعَوَاتٍ:" اللهُمَّ بَارِكْ لِأَحْمَسَ فِي خَيْلِهَا وَرِجَالِهَا". وَأَتَاهُ الْقَوْمُ فَتَكَلَّمَ الْمُغِيرَةُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ صَخْرًا أَخَذَ عَمَّتِي وَدَخَلَتْ فِيمَا دَخَلَ فِيهِ الْمُسْلِمُونَ. فَدَعَاهُ فَقَالَ:" يَا صَخْرُ إِنَّ الْقَوْمَ إِذَا أَسْلَمُوا أَحْرَزُوا دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ فَادْفَعْ إِلَى الْمُغِيرَةِ عَمَّتَهُ". فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ، وَسَأَلَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا لِبَنِي سُلَيْمٍ قَدْ هَرَبُوا عَنِ الْإِسْلَامِ وَتَرَكُوا ذَاكَ الْمَاءَ؟" فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ أَنْزِلْنِيهِ أَنَا وَقَوْمِي. قَالَ:" نَعَمْ". فَأَنْزَلَهُ وَأَسْلَمَ يَعْنِي السُّلَمِيِّينَ، فَأَتَوْا صَخْرًا فَسَأَلُوهُ أَنْ يَدْفَعَ إِلَيْهِمُ الْمَاءَ فَأَبَى، فَأَتَوْا نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ أَسْلَمْنَا وَأَتَيْنَا صَخْرًا لِيَدْفَعَ إِلَيْنَا مَاءَنَا فَأَبَى عَلَيْنَا، فَدَعَاهُ فَقَالَ:" يَا صَخْرُ إِنَّ الْقَوْمَ إِذَا أَسْلَمُوا أَحْرَزُوا أَمْوَالَهُمْ وَدِمَاءَهُمْ فَادْفَعْ إِلَى الْقَوْمِ مَاءَهُمْ". قَالَ: نَعَمْ يَا نَبِيَّ اللهِ. فَرَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَغَيَّرُ عِنْدَ ذَلِكَ حُمْرَةً؛ حَيَاءً مِنْ أَخْذِهِ الْجَارِيَةَ وَأَخْذِهِ الْمَاءَ قَالَ الشَّيْخُ: وَالِاسْتِدْلَالُ وَقَعَ بِقَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْقَوْمَ إِذَا أَسْلَمُوا أَحْرَزُوا أَمْوَالَهُمْ وَدِمَاءَهُمْ". فَأَمَّا اسْتِرْدَادُ الْمَاءِ عَنْ صَخْرٍ بَعْدَ مَا مَلَكَهُ بِتَمْلِيكِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهُ فَإِنَّهُ يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ بِاسْتِطَابَةِ نَفْسِهِ، وَلِذَلِكَ كَانَ يَظْهَرُ فِي وَجْهِهِ أَثَرُ الْحَيَاءِ، وَاللهُ أَعْلَمُ. وَأَمَّا عَمَّةُ الْمُغِيرَةِ، فَإِنْ كَانَتْ أَسْلَمَتْ بَعْدَ الْأَخْذِ فَكَأَنَّهُ رَأَى إِسْلَامَهَا قَبْلَ الْقِسْمَةِ يُحْرِزُ مَالَهَا، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ إِسْلَامُهَا قَبْلَ الْأَخْذِ، وَاللهُ أَعْلَمُ. وَصَخْرٌ هَذَا هُوَ ابْنُ الْعَيْلَةِ، قَالَهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، عَنْ أَبَانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ صَخْرِ بْنِ الْعَيْلَةِ لَمْ يَقُلْ: عَنْ أَبِيهِ. وَرُوِيَ فِي قِصَّةِ رِعْيَةَ السُّحَيْمِيِّ مَا دَلَّ عَلَيْهِ ظَاهِرُ قِصَّةِ عَمَّةِ الْمُغِيرَةِ، فَإِنَّهُ أَسْلَمَ ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَهْلِي وَمَالِي. قَالَ:" أَمَّا مَالُكَ فَقَدْ قُسِمَ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، وَأَمَّا أَهْلُكَ فَانْظُرْ مَنْ قَدَرْتَ عَلَيْهِ مِنْهُمْ". قَالَ: فَرَدَّ عَلَيْهِ ابْنَهُ وَيُحْتَمَلُ أَنَّهُ اسْتَطَابَ أَنْفُسَ أَهْلِ الْغَنِيمَةِ كَمَا فَعَلَ فِي سَبْيِ هَوَازِنَ وَعَوَّضَ أَهْلَ الْخُمُسِ مِنْ نَصِيبِهِمْ، وَاللهُ أَعْلَمُ. وَإِسْنَادُ الْحَدِيثَيْنِ غَيْرُ قَوِيٍّ.
عثمان بن ابی حازم اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا صخر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو ثقیف کے خلاف غزوہ کیا، صخر رضی اللہ عنہ کو علم ہوا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کے لیے اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر آئے، انہوں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (فتح کے بغیر) واپس ہو گئے ہیں تو صخر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”وہ اس وقت تک نہیں جائیں گے جب تک کہ یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر نہ اتر آئیں“۔ بالآخر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اتر پڑے تو صخر رضی اللہ عنہ نے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو) لکھا: ”حمد و ثنا کے بعد! اے اللہ کے رسول! وہ آپ کے حکم پر اتر پڑے ہیں اور آپ کے پاس ایک قافلے کی صورت میں آ رہے ہیں“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارنے کا حکم دیا: «الصَّلَاةَ جَامِعَةً» ”نماز جمع کرنے والی ہے (یعنی سب جمع ہو جائیں)“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل احمس کے لیے دس دعائیں فرمائیں: ”اے اللہ! اہل احمس کے سواروں اور پیادوں میں برکت عطا فرما“۔ جب لوگ آئے تو مغیرہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! صخر رضی اللہ عنہ نے میری پھوپھی کو قید کر لیا ہے اور وہ لوگوں کے ساتھ مسلمان ہو گئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صخر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: ”اے صخر! جب لوگ مسلمان ہو جاتے ہیں تو اپنے خون اور مال کو محفوظ کر لیتے ہیں، لہٰذا مغیرہ کو ان کی پھوپھی واپس کر دو“۔ صخر رضی اللہ عنہ نے انہیں واپس کر دیا اور بنو سلیم کے ان چشموں کے متعلق سوال کیا جن کے مالک اسلام سے بھاگ گئے تھے اور پانی چھوڑ گئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ مجھے اور میری قوم کو عطا فرما دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھیک ہے“۔ وہ وہاں چلے گئے تو پھر بنو سلیم والے مسلمان ہو کر آ گئے، انہوں نے صخر رضی اللہ عنہ سے اپنے پانی کا مطالبہ کیا تو انہوں نے انکار کر دیا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! ہم نے اسلام قبول کر لیا ہے اور ہم نے صخر سے مطالبہ کیا کہ وہ ہمارے پانی واپس کر دیں، لیکن انہوں نے انکار کر دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صخر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: ”اے صخر! جب لوگ مسلمان ہو جاتے ہیں تو اپنے خون اور مال کو محفوظ کر لیتے ہیں، لہٰذا آپ ان کے پانی واپس کر دیں“۔ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ٹھیک ہے۔ (راوی کہتے ہیں کہ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کو دیکھا کہ وہ حیا کی وجہ سے سرخ ہو رہا تھا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے لونڈی اور پانی دونوں واپس لیے تھے۔
شیخ فرماتے ہیں: اس قول سے استدلال کیا گیا ہے کہ ”جب لوگ مسلمان ہو جاتے ہیں تو اپنے خون اور مال کو محفوظ کر لیتے ہیں“، صخر رضی اللہ عنہ سے پانی واپس لینا بھی اسی کے مشابہ ہے کہ وہ اپنے دل کی خوشی سے واپس کریں، یہی وجہ تھی کہ حیا کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک متغیر ہو گیا تھا، اور مغیرہ رضی اللہ عنہ کی پھوپھی نے اگر قید ہونے کے بعد اسلام قبول کیا تھا تو گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقسیم سے پہلے اس کے اسلام کو اس کے مال کی حفاظت کا ذریعہ سمجھا، اور یہ بھی احتمال ہے کہ پکڑے جانے سے پہلے ہی اس نے اسلام قبول کر لیا ہو۔ رعیہ حیمی کا قصہ بھی اسی طرح ہے کہ جب وہ مسلمان ہوا تو اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے اہل و عیال اور میرا مال؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا مال تو مسلمانوں کے درمیان تقسیم ہو چکا ہے، البتہ اپنے اہل کو دیکھ لو جن پر تمہیں قدرت حاصل ہو سکے“، چنانچہ ان کا بیٹا انہیں واپس کر دیا گیا، یہ بھی ممکن ہے کہ غنیمت پانے والوں نے اپنی خوشی سے اسے واپس کیا ہو۔
ان دونوں حدیثوں کی سند قوی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18264]
شیخ فرماتے ہیں: اس قول سے استدلال کیا گیا ہے کہ ”جب لوگ مسلمان ہو جاتے ہیں تو اپنے خون اور مال کو محفوظ کر لیتے ہیں“، صخر رضی اللہ عنہ سے پانی واپس لینا بھی اسی کے مشابہ ہے کہ وہ اپنے دل کی خوشی سے واپس کریں، یہی وجہ تھی کہ حیا کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک متغیر ہو گیا تھا، اور مغیرہ رضی اللہ عنہ کی پھوپھی نے اگر قید ہونے کے بعد اسلام قبول کیا تھا تو گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقسیم سے پہلے اس کے اسلام کو اس کے مال کی حفاظت کا ذریعہ سمجھا، اور یہ بھی احتمال ہے کہ پکڑے جانے سے پہلے ہی اس نے اسلام قبول کر لیا ہو۔ رعیہ حیمی کا قصہ بھی اسی طرح ہے کہ جب وہ مسلمان ہوا تو اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے اہل و عیال اور میرا مال؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا مال تو مسلمانوں کے درمیان تقسیم ہو چکا ہے، البتہ اپنے اہل کو دیکھ لو جن پر تمہیں قدرت حاصل ہو سکے“، چنانچہ ان کا بیٹا انہیں واپس کر دیا گیا، یہ بھی ممکن ہے کہ غنیمت پانے والوں نے اپنی خوشی سے اسے واپس کیا ہو۔
ان دونوں حدیثوں کی سند قوی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18264]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 18264 in Urdu