السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3634. -- باب: ما قسم من الدور والأراضي في الجاهلية ثم أسلم أهلها عليها
-- باب: زمانہ جاہلیت میں جو مکانات اور زمینیں تقسیم کی گئیں، پھر ان کے مالک اس حالت میں مسلمان ہو گئے، اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 18285
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَأَلْتُ الشَّافِعِيَّ عَنْ أَهْلِ الدَّارِ مِنْ أَهْلِ الْحَرْبِ يَقْسِمُونَ الدَّارَ وَيَمْلِكُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ عَلَى ذَلِكَ الْقَسْمِ، وَيُسْلِمُونَ ثُمَّ يُرِيدُ بَعْضُهُمْ أَنْ يَنْقُضَ ذَلِكَ الْقَسْمَ وَيَقْسِمَهُ عَلَى قَسْمِ الْأَمْوَالِ فَقَالَ: لَيْسَ ذَلِكَ لَهُ. فَقُلْتُ: وَمَا الْحُجَّةُ فِي ذَلِكَ؟ قَالَ: الِاسْتِدْلَالُ بِمَعْنَى الْإِجْمَاعِ وَالسُّنَّةِ، فَذَكَرَ مَا لَا يُؤَاخَذُونَ بِهِ مِنْ قَتْلِ بَعْضِهِمْ بَعْضًا وَسَبْيِ بَعْضِهِمْ بَعْضًا وَغَصْبِ بَعْضِهِمْ بَعْضًا، ثُمَّ قَالَ: مَعَ أَنَّهُ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَيُّمَا دَارٍ أَوْ أَرْضٍ قُسِمَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَهِيَ عَلَى قَسْمِ الْجَاهِلِيَّةِ، وَأَيُّمَا دَارٍ أَوْ أَرْضٍ أَدْرَكَهَا الْإِسْلَامُ لَمْ تُقْسَمْ فَهِيَ عَلَى قَسْمِ الْإِسْلَامِ" قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَنَحْنُ نَرْوِي فِيهِ حَدِيثًا أَثْبَتَ مِنْ هَذَا، بَلَغَنِي بِمِثْلِ مَعْنَاهُ. قَالَ الشَّيْخُ: وَلَعَلَّهُ أَرَادَ مَا:.
ربیع بن سلیمان رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے امام شافعی رحمہ اللہ سے اہل حرب میں سے ایک گھر والوں کے بارے میں پوچھا جو گھر کو آپس میں تقسیم کر لیتے ہیں اور اس تقسیم کی بنا پر ہر ایک اپنے حصے کا مالک بن جاتا ہے، پھر وہ مسلمان ہو جاتے ہیں، پھر ان میں سے کوئی اس تقسیم کو ختم کر کے اسے وراثت کی تقسیم کے مطابق تقسیم کرنا چاہتا ہے، فرماتے ہیں: یہ اس کے لیے درست نہیں ہے۔ میں نے دلیل پوچھی تو فرمایا: اجماع اور سنت کے مفہوم سے استدلال، جس طرح ان سے مؤاخذہ نہ کیا جائے گا کسی کے قتل، قیدی اور غصب شدہ چیز کا۔ ثور بن زید دیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو گھر یا زمین جاہلیت میں تقسیم کر دی گئی، وہ اسی تقسیم پر باقی رہے گی اور جو گھر، زمین تقسیم نہ کی گئی تو اسے اسلام کے اصولوں کے مطابق تقسیم کر لیا جائے گا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ہم اس بارے میں اس سے زیادہ ثابت حدیث روایت کرتے ہیں جو مجھے اسی مفہوم کے ساتھ پہنچی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18285]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ہم اس بارے میں اس سے زیادہ ثابت حدیث روایت کرتے ہیں جو مجھے اسی مفہوم کے ساتھ پہنچی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18285]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 18285 in Urdu