السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3644. -- باب: الولد تبع لأبويه حتى يعرب عنه اللسان
-- باب: بچہ اپنے والدین کے تابع شمار ہوتا ہے جب تک کہ اس کی زبان خود اظہار کرنے کے قابل نہ ہو جائے۔
حدیث نمبر: 18334
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْمُنَادِي، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُؤَدِّبُ، ثنا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً يَوْمَ حُنَيْنٍ فَقَاتَلُوا الْمُشْرِكِينَ، فَأَفْضَى بِهِمُ الْقَتْلُ إِلَى الذُّرِّيَّةِ، فَلَمَّا جَاءُوا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا حَمَلَكُمْ عَلَى قَتْلِ الذُّرِّيَّةِ؟" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّمَا كَانُوا أَوْلَادَ الْمُشْرِكِينَ. قَالَ:" وَهَلْ خِيَارُكُمْ إِلَّا أَوْلَادُ الْمُشْرِكِينَ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا مِنْ نَسَمَةٍ تُولَدُ إِلَّا عَلَى الْفِطْرَةِ حَتَّى يُعْرِبَ عَنْهَا لِسَانُهَا". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فِي رِوَايَةِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْهُ:" هِيَ الْفِطْرَةُ الَّتِي فَطَرَ اللهُ عَلَيْهَا الْخَلْقَ"، فَجَعَلَهُمْ مَا لَمْ يُفْصِحُوا بِالْقَوْلِ لَا حُكْمَ لَهُمْ فِي أَنْفُسِهِمْ إِنَّمَا الْحُكْمُ لَهُمْ بِآبَائِهِمْ.
سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے دن ایک چھوٹا لشکر بھیجا، جنہوں نے مشرکین سے لڑائی کرتے ہوئے ان کے بچوں کو بھی قتل کر دیا، جب وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تمہیں بچوں کے قتل پر کس نے ابھارا؟“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ مشرکین کی اولاد تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے بہترین لوگ بھی مشرکین ہی کی اولاد نہیں ہیں؟ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! ہر جان فطرت پر پیدا ہوتی ہے یہاں تک کہ اس کی بات سمجھ میں آنے لگ جائے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ ابو عبدالرحمن کی روایت میں فرماتے ہیں: یہ وہ فطرت ہے جس پر اللہ رب العزت نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، ان کے لیے کوئی حکم لاگو نہیں کیا جاتا جب تک فصیح کلام نہ کریں اور ان کو والدین کے تابع ہی شمار کیا جاتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18334]
امام شافعی رحمہ اللہ ابو عبدالرحمن کی روایت میں فرماتے ہیں: یہ وہ فطرت ہے جس پر اللہ رب العزت نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، ان کے لیے کوئی حکم لاگو نہیں کیا جاتا جب تک فصیح کلام نہ کریں اور ان کو والدین کے تابع ہی شمار کیا جاتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18334]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم برقم ١٨٠٨٩»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 18334 in Urdu