السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3646. -- باب: المبارزة
-- باب: مبارزت (میدانِ جنگ میں تن بہ تن مقابلے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 18346
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ بْنِ سَعِيدٍ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، قَالَ: فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَدْعُوهُ وَهُوَ أَرْمَدُ، فَقَالَ:" لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ الْيَوْمَ رَجُلًا يُحِبُّ اللهَ وَرَسُولَهُ وَيُحِبُّهُ اللهُ وَرَسُولُهُ". قَالَ: فَجِئْتُ بِهِ أَقُودُهُ، ⦗٢٢٢⦘ قَالَ: فَبَصَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَيْنَيْهِ فَبَرَأَ، فَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ قَالَ: فَبَرَزَ مَرْحَبٌ وَهُوَ يَقُولُ:.
ایاس بن سلمہ بن اکوع اپنے والد (سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آئے، (پھر) ایک لمبی حدیث ذکر کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بلایا، ان کی آنکھیں خراب تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج میں جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔“ وہ (سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ میں انہیں پکڑ کر لایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں لعابِ دہن ڈالا تو وہ تندرست ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھنڈا انہیں دے دیا۔ تو مرحب نے رجزیہ اشعار پڑھتے ہوئے مقابلے کی دعوت دی، اس نے کہا: «قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ، شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ، إِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ» ”خیبر جانتا ہے میں مرحب ہوں۔ اسلحے سے لیس اور تجربہ کار بہادر ہوں۔ جب جنگیں بھڑک کر سامنے آجاتی ہیں۔“
سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس کے مقابلے میں یہ کہتے ہوئے آئے: «أَنَا الَّذِي سَمَّتْنِي أُمِّي حَيْدَرَهْ، كَلَيْثِ غَابَاتٍ كَرِيهِ الْمَنْظَرَهْ، أُوفِيهِمُ بِالصَّاعِ كَيْلَ السَّنْدَرَهْ» ”میں وہ ہوں جس کی ماں نے اس کا نام حیدر رکھا ہے۔ جو جنگل کے شیر کی طرح خوفناک ہے میں انہیں سندرہ کے بڑے پیمانے سے پورا پورا ناپ کر دیتا ہوں۔“
تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پہلے ہی وار میں مرحب کا سر تلوار سے پھاڑ ڈالا اور اسے قتل کر دیا۔ یہ فتح تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18346]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس کے مقابلے میں یہ کہتے ہوئے آئے: «أَنَا الَّذِي سَمَّتْنِي أُمِّي حَيْدَرَهْ، كَلَيْثِ غَابَاتٍ كَرِيهِ الْمَنْظَرَهْ، أُوفِيهِمُ بِالصَّاعِ كَيْلَ السَّنْدَرَهْ» ”میں وہ ہوں جس کی ماں نے اس کا نام حیدر رکھا ہے۔ جو جنگل کے شیر کی طرح خوفناک ہے میں انہیں سندرہ کے بڑے پیمانے سے پورا پورا ناپ کر دیتا ہوں۔“
تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پہلے ہی وار میں مرحب کا سر تلوار سے پھاڑ ڈالا اور اسے قتل کر دیا۔ یہ فتح تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18346]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 18346 in Urdu