السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3647. -- باب: ما جاء في نقل الرءوس
-- باب: (مقتولین کے) سروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 18353
قَالَ: وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أُتِيَ بِرَأْسٍ فَقَالَ: بَغَيْتُمْ. قَالَ: وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ ⦗٢٢٤⦘ مَعْمَرٍ، حَدَّثَنِي صَاحِبٌ لَنَا، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: لَمْ يُحْمَلْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسٌ إِلَى الْمَدِينَةِ قَطُّ، وَلَا يَوْمَ بَدْرٍ، وَحُمِلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَكَرِهَ ذَلِكَ. قَالَ: وَأَوَّلُ مَنْ حُمِلَتْ إِلَيْهِ الرُّءُوسُ عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ..
عبدالکریم جزری فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس ایک سر لایا گیا تو فرمانے لگے: تم نے سرکشی کی ہے۔
(ب) امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ میں کبھی سر نہیں لایا گیا، نہ ہی بدر کے دن، جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس سر لایا گیا تو انہوں نے ناپسند کیا، کہتے ہیں: سب سے پہلے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس سر لائے گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18353]
(ب) امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ میں کبھی سر نہیں لایا گیا، نہ ہی بدر کے دن، جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس سر لایا گیا تو انہوں نے ناپسند کیا، کہتے ہیں: سب سے پہلے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس سر لائے گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18353]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 18353 in Urdu