🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3649. -- باب: السواد
-- باب: سواد (عراق کے زرخیز علاقے) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18381
أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الدَّامَغَانِيُّ بِبَيْهَقَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ هَارُونُ بْنُ يُوسُفَ الْقَطِيعِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مُثِّلَتْ لِيَ الْحِيرَةُ كَأَنْيَابِ الْكِلَابِ، وَإِنَّكُمْ سَتَفْتَحُونَهَا". فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هَبْ لِيَ ابْنَةَ بَقِيلَةَ. قَالَ:" هِيَ لَكَ". فَأَعْطَوْهُ إِيَّاهَا فَجَاءَ أَبُوهَا فَقَالَ: أَتَبِيعُهَا؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: بِكَمْ؟ احْكُمْ مَا شِئْتَ. قَالَ: أَلْفُ دِرْهَمٍ. قَالَ: قَدْ أَخَذْتُهَا. قَالُوا لَهُ: لَوْ قُلْتَ ثَلَاثِينَ أَلْفًا لَأَخَذَهَا. قَالَ: وَهَلْ عَدَدٌ أَكْثَرُ مِنْ أَلْفٍ؟. تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ أَبِي عُمَرَ عَنْ سُفْيَانَ هَكَذَا، وَقَالَ غَيْرُهُ عَنْهُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ⦗٢٣٠⦘ وَالْمَشْهُورُ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ خُرَيْمِ بْنِ أَوْسٍ، وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْمَرْأَةَ، وَقَدْ رُوِّينَا فِي كِتَابِ دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ فِي آخِرِ غَزْوَةِ تَبُوكَ.
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حیرہ شہر میرے سامنے کتوں کی کچلیوں کی مانند ظاہر کیا گیا اور تم اس کو فتح کرو گے۔“ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر کہا: اے اللہ کے نبی! بقیلہ کی بیٹی مجھے ہبہ کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تیری ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دے دی۔ پھر اس کا باپ آیا، کہنے لگا: کیا فروخت کرو گے؟ اس نے پوچھا: کتنے کی؟ اس نے کہا: جو چاہو فیصلہ کر لو۔ اس نے کہا: ہزار درہم۔ اس نے کہا: میں نے خرید لی ہے۔ انہوں نے کہا: اگر وہ تیس ہزار بھی مانگتا تب بھی وہ خرید لیتے۔ اس نے کہا: کیا ہزار سے بڑا عدد بھی کوئی ہے؟
اس روایت کو سفیان سے اس طرح بیان کرنے میں ابن ابی عمر منفرد ہیں، دوسروں نے اسے سفیان سے علی بن زید بن جدعان کے واسطے سے بیان کیا ہے۔
(ب) مشہور یہ ہے کہ یہ حدیث خریم بن اوس سے ہے، یہ وہ شخص ہے جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عورت دی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18381]
تخریج الحدیث: «موضوع»

الحكم على الحديث: موضوع

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 18381 in Urdu