🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3651. -- باب: من رأى قسمة الأراضي المغنومة ومن لم يرها
-- باب: اس شخص کا بیان جو مالِ غنیمت میں ملنے والی زمینوں کی تقسیم کا قائل ہے اور جو اس کا قائل نہیں ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18387
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ⦗٢٣٢⦘ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أنبأ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، فِيمَا يَحْسِبُ أَبُو سَلَمَةَ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاتَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ حَتَّى أَلْجَأَهُمْ إِلَى قَصْرِهِمْ، فَغَلَبَ عَلَى الْأَرْضِ وَالزَّرْعِ وَالنَّخْلِ، فَصَالَحُوهُ عَلَى أَنْ يَجْلُوا مِنْهَا وَلَهُمْ مَا حَمَلَتْ رِكَابُهُمْ وَلِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّفْرَاءُ وَالْبَيْضَاءُ وَيَخْرُجُونَ مِنْهَا، وَاشْتَرَطَ عَلَيْهِمْ أَنْ لَا يَكْتُمُوا وَلَا يُغَيِّبُوا شَيْئًا، فَإِنْ فَعَلُوا فَلَا ذِمَّةَ لَهُمْ وَلَا عَهْدَ، فَغَيَّبُوا مَسْكًا فِيهِ مَالٌ وَحُلِيٌّ لِحُيِيِّ بْنِ أَخْطَبَ كَانَ احْتَمَلَهُ مَعَهُ إِلَى خَيْبَرَ حِينَ أُجْلِيَتِ النَّضِيرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمِّ حُيَيٍّ:" مَا فَعَلَ مَسْكُ حُيَيٍّ الَّذِي جَاءَ بِهِ مِنَ النَّضِيرِ؟" فَقَالَ: أَذْهَبَتْهُ النَّفَقَاتُ وَالْحُرُوبُ. فَقَالَ:" الْعَهْدُ قَرِيبٌ وَالْمَالُ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ". فَدَفَعَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الزُّبَيْرِ فَمَسَّهُ بِعَذَابٍ، وَقَدْ كَانَ حُيَيٌّ قَبْلَ ذَلِكَ دَخَلَ خَرِبَةً فَقَالَ:" قَدْ رَأَيْتُ حُيَيًّا يَطُوفُ فِي خَرِبَةٍ هَهُنَا". فَذَهَبُوا وَطَافُوا فَوَجَدُوا الْمَسْكَ فِي الْخَرِبَةِ، فَقَتَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَيْ حَقِيقٍ وَأَحَدُهُمَا زَوْجُ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيِيِّ بْنِ أَخْطَبَ، وَسَبَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُمْ وَذَرَارِيَّهُمْ، وَقَسَمَ أَمْوَالَهُمْ بِالنَّكْثِ الَّذِي نَكَثُوا وَأَرَادَ أَنْ يُجْلِيَهُمْ مِنْهَا فَقَالُوا: يَا مُحَمَّدُ دَعْنَا نَكُونُ فِي هَذِهِ الْأَرْضِ نُصْلِحُهَا وَنَقُومُ عَلَيْهَا. وَلَمْ يَكُنْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا لِأَصْحَابِهِ غِلْمَانٌ يَقُومُونَ عَلَيْهَا، وَكَانُوا لَا يَفْرُغُونَ أَنْ يَقُومُوا عَلَيْهَا، فَأَعْطَاهُمْ خَيْبَرَ عَلَى أَنَّ لَهُمُ الشَّطْرَ عَنْ كُلِّ زَرْعٍ وَنَخْلٍ وَشَيْءٍ مَا بَدَا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ يَأْتِيهِمْ كُلَّ عَامٍ فَيَخْرُصُهَا عَلَيْهِمْ ثُمَّ يُضَمِّنُهُمُ الشَّطْرَ، فَشَكَوْا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شِدَّةَ خَرْصِهِ وَأَرَادُوا أَنْ يَرْشُوهُ، قَالَ:" يَا أَعْدَاءَ اللهِ تُطْعِمُونَِي السُّحْتَ؟ وَاللهِ لَقَدْ جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ أَحَبِّ النَّاسِ إِلِيَّ وَلَأَنْتُمْ أَبْغَضُ إِلِيَّ مِنْ عِدَّتِكُمْ مِنَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ، وَلَا يَحْمِلُنِي بُغْضِي إِيَّاكُمْ وَحُبِّي إِيَّاهُ عَلَى أَنْ لَا أَعْدِلَ بَيْنَكُمْ". فَقَالُوا: بِهَذَا قَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ. قَالَ: وَرَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَيْنِ صَفِيَّةَ خُضْرَةً فَقَالَ:" يَا صَفِيَّةُ مَا هَذِهِ الْخُضْرَةُ". فَقَالَتْ: كَانَ رَأْسِي فِي حِجْرِ ابْنِ حَقِيقٍ وَأَنَا نَائِمَةٌ، فَرَأَيْتُ كَأَنَّ قَمَرًا وَقَعَ فِي حِجْرِي، فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ فَلَطَمَنِي وَقَالَ: تَمَنَّيْنَ مَلِكَ يَثْرِبَ. قَالَتْ: وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَبْغَضِ النَّاسِ إِلِيَّ، قَتَلَ زَوْجِي وَأَبِي فَمَازَالَ يَعْتَذِرُ إِلِيَّ وَيَقُولُ:" إِنَّ أَبَاكِ أَلَّبَ عَلَيَّ الْعَرَبَ وَفَعَلَ وَفَعَلَ"، حَتَّى ذَهَبَ ذَلِكَ مِنْ نَفْسِي، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي كُلَّ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ ثَمَانِينَ وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ كُلَّ عَامٍ وَعِشْرِينَ وَسْقًا مِنْ شَعِيرٍ، فَلَمَّا كَانَ زَمَنُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ غَشُّوا الْمُسْلِمِينَ وَأَلْقَوَا ابْنَ عُمَرَ مِنْ فَوْقِ بَيْتٍ فَفَدَعُوا يَدَيْهِ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَنْ كَانَ لَهُ سَهْمٌ مِنْ خَيْبَرَ⦗٢٣٣⦘ فَلْيَحْضُرْ حَتَّى نَقْسِمَهَا بَيْنَهُمْ، فَقَسَمَهَا بَيْنَهُمْ فَقَالَ رَئِيسُهُمْ: لَا تُخْرِجْنَا، دَعْنَا نَكُونُ فِيهَا كَمَا أَقَرَّنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِرَئِيسِهِمْ: أَتُرَاهُ سَقَطَ عَنِّي قَوْلُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَيْفَ بِكَ إِذَا رَقَصَتْ بِكَ رَاحِلَتُكَ نَحْوَ الشَّامِ يَوْمًا ثُمَّ يَوْمًا ثُمَّ يَوْمًا". وَقَسَمَهَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَيْنَ مَنْ كَانَ شَهِدَ خَيْبَرَ مِنْ أَهْلِ الْحُدَيْبِيَةِ.
نافع، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر والوں سے جنگ کرتے ہوئے انہیں قلعہ میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی زمین، زراعت اور کھجوروں کے باغات پر قبضہ کر لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس بات پر صلح کی کہ جو ان کی سواریاں لے جا سکیں وہ ان کا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سونا چاندی ہے۔ وہ وہاں سے چلے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شرط رکھی کہ وہ کسی چیز کو نہیں چھپائیں گے۔ اگر انہوں نے کسی چیز کو چھپایا تو ان کا ذمہ اور کوئی عہد نہیں ہے۔ پھر بھی انہوں نے مال سے بھری ہوئی ایک کھال چھپا دی اور حیی بن اخطب کے زیورات، جو وہ خیبر لے کر آیا تھا بنو نضیر کی جلا وطنی کے موقع پر۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حیی کے چچا سے پوچھا: ”حیی کی مال سے بھری ہوئی وہ مشک کہاں ہے جو بنو نضیر سے لے کر آیا تھا؟“ اس نے کہا: جنگوں اور اخراجات نے اس کو ختم کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عہد قریب ہے اور مال اس سے بھی زیادہ ہے۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دیا، جس نے اسے سزا دی اور حیی اس سے پہلے ایک ویرانے میں داخل ہوا تھا۔ کہتے ہیں: میں نے حیی کو دیکھا کہ وہ اس ویرانے میں گھوم رہا تھا، وہاں گئے تو انہوں نے ویرانے میں مال کو پایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حقیق کے دونوں بیٹوں کو قتل کر دیا۔ ان میں سے ایک سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا بنت حیی بن اخطب کا خاوند تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی عورتوں اور بچوں کو قیدی بنایا اور ان کے مالوں کو وعدہ کی خلاف ورزی کی بنا پر تقسیم کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جلا وطن کرنے کا ارادہ فرمایا۔ انہوں نے کہا: اے محمد! ہمیں اس زمین پر برقرار رکھیے، ہم کھیتی باڑی کریں اور اس کا خیال رکھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس غلام بھی نہ تھے جو اس کا خیال رکھتے اور نہ خود ہی فارغ تھے کہ وہاں ٹھہر سکتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خیبر اس شرط پر دیا کہ ہر کھیتی، کھجور اور چیز کا نصف ان کا ہو گا جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں۔ سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ ہر سال ان کے پاس آتے، پیداوار کا اندازہ لگاتے، پھر انہیں نصف کا ذمہ دار ٹھہراتے۔ انہوں نے اندازہ کی سختی کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شکایت کی اور سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو رشوت دینے کا ارادہ کیا تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے دشمنو! تم مجھے حرام کھلاتے ہو؟ اللہ کی قسم! میں تمہارے پاس لوگوں میں سے اپنی جانب سب سے زیادہ محبوب شخص کے پاس سے آیا ہوں لیکن تمہاری عادت مجھے بندروں اور خنزیروں سے بھی زیادہ بری لگتی ہے۔ تمہارا بغض اور ان کی محبت مجھے اس بات پر نہ ابھارے کہ میں عدل نہ کر سکوں۔ انہوں نے کہا: اسی وجہ سے آسمان و زمین قائم ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی آنکھ میں سبز نشان دیکھا تو پوچھا: ”اے صفیہ! یہ کیا ہے؟“ کہتی ہیں کہ میں حقیق کے بیٹے کی گود میں سر رکھ کر سوئی ہوئی تھی۔ میں نے دیکھا کہ چاند میری گود میں گر پڑا ہے۔ میں نے اس کو بتایا تو اس نے مجھے تھپڑ دے مارا اور کہا: تو یثرب کے بادشاہ کی تمنا کرتی ہے۔ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ مبغوض تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے باپ اور خاوند کو قتل کیا تھا، وہ مجھ سے معذرت کرتے رہے اور فرمایا: ”تیرے باپ نے عربوں کو میرے خلاف بھڑکایا اور یہ کیا اور وہ کیا۔“ یہاں تک کہ میرے دل سے وہ بات ختم ہو گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ہر عورت کو ہر سال اسی وسق کھجور اور بیس وسق جو دیا کرتے تھے۔ جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا دور آیا تو انہوں نے مسلمانوں سے دھوکا کیا اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو ایک گھر کی چھت سے نیچے پھینک دیا اور ان کے ہاتھوں کے جوڑ نکال دیے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جس کا خیبر میں حصہ ہو وہ آئے کہ ہم ان کے درمیان تقسیم کرتے ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کے درمیان تقسیم کر دی۔ ان کے سردار نے کہا: آپ ہمیں جلا وطن نہ کریں۔ بلکہ جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہمیں برقرار رکھا ویسے ہی رہنے دیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے سردار سے یہ بات کہی: کیا تیرا خیال ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات بھول گیا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”تیری کیا حالت ہوگی جب تیری سواری تجھے تین دن تک شام کی جانب لے کر جائے گی؟“ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حدیبیہ والوں میں جو غزوہ خیبر میں موجود تھے ان کے حصے تقسیم کر دیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18387]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 18387 in Urdu