السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3651. -- باب: من رأى قسمة الأراضي المغنومة ومن لم يرها
-- باب: اس شخص کا بیان جو مالِ غنیمت میں ملنے والی زمینوں کی تقسیم کا قائل ہے اور جو اس کا قائل نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 18391
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أنبأ هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ:" لَوْلَا أَنِّي أَتْرُكُ النَّاسَ يَبَابًا لَا شَيْءَ لَهُمْ مَا فُتِحَتْ قَرْيَةٌ إِلَّا قَسَمْتُهَا كَمَا قَسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ". قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا عِنْدَنَا وَاللهُ أَعْلَمُ عَلَى أَنَّهُ كَانَ يَسْتَطِيبُ قُلُوبَهُمْ، ثُمَّ يَقِفُهَا لِلْمُسْلِمِينَ نَظَرًا لَهُمْ.
زید بن اسلم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرماتے تھے: اگر میں لوگوں کو اس حالت میں نہ چھوڑوں کہ ان کے لیے کوئی چیز نہ ہو، جو بستی بھی فتح ہو تو میں اسے تقسیم کر دوں جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو تقسیم کیا تھا۔
شیخ فرماتے ہیں: ہمارے نزدیک، واللہ اعلم، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ پہلے ان کے دلوں کی رضامندی حاصل کرتے، پھر مسلمانوں کے مفاد کے پیش نظر اسے مسلمانوں کے لیے وقف کر دیتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18391]
شیخ فرماتے ہیں: ہمارے نزدیک، واللہ اعلم، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ پہلے ان کے دلوں کی رضامندی حاصل کرتے، پھر مسلمانوں کے مفاد کے پیش نظر اسے مسلمانوں کے لیے وقف کر دیتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18391]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 18391 in Urdu