السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3658. -- باب: الأسير يؤمن فلا يكون له أن يغتالهم في أموالهم وأنفسهم
-- باب: قیدی کو جب امان دے دی جائے تو اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ ان (دشمنوں) کی جانوں اور مالوں کے حوالے سے دھوکہ دہی کرے۔
حدیث نمبر: 18424
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ خَيْبَرَ، خَرَجَتْ سَرِيَّةٌ فَأَخَذُوا إِنْسَانًا مَعَهُ غَنَمٌ يَرْعَاهَا فَجَاؤُوا بِهِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يُكَلِّمَهُ بِهِ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: إِنِّي قَدْ آمَنْتُ بِكَ وَبِمَا جِئْتَ بِهِ فَكَيْفَ بِالْغَنَمِ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَإِنَّهَا أَمَانَةٌ وَهِيَ لِلنَّاسِ الشَّاةُ وَالشَّاتَانِ وَأَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ:" احْصِبْ وُجُوهَهَا تَرْجِعْ إِلَى أَهْلِهَا". فَأَخَذَ قَبْضَةً مِنْ حَصْبَاءَ أَوْ تُرَابٍ فَرَمَى بِهِ وَجُوهِهَا فَخَرَجَتْ تَشْتَدُّ حَتَّى دَخَلَتْ كُلُّ شَاةٍ إِلَى أَهْلِهَا، ثُمَّ تَقَدَّمَ إِلَى الصَّفِّ فَأَصَابَهُ سَهْمٌ فَقَتَلَهُ وَلَمْ يُصَلِّ لِلَّهِ سَجْدَةً قَطُّ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَدْخِلُوهُ الْخِبَاءَ"، فَأُدْخِلَ خِبَاءَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا فَرَغَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهِ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ:" لَقَدْ حَسُنَ إِسْلَامُ صَاحِبِكُمْ، لَقَدْ دَخَلْتُ عَلَيْهِ وَإِنَّ عِنْدَهُ لَزَوْجَتَيْنِ لَهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ". لَمْ أَكْتُبْهُ مَوْصُولًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعْدٍ، وَقَدْ تَكَلَّمُوا فِيهِ. ورُوِيَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِيهِ مُرْسَلًا، وَرُوِي عَنْ أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ فِيهِ قِصَّةٌ شَبِيهَةٌ بِهَذِهِ، إِلَّا أَنَّهَا بِإِسْنَادٍ مُرْسَلٍ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ غزوہ خیبر میں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ ایک چھوٹا لشکر نکلا، انہوں نے ایک انسان کو پکڑا جو بکریاں چرا رہا تھا۔ اسے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بات چیت کی جو اللہ نے چاہا تو اس شخص نے کہا: میں آپ پر اور جو آپ لے کر آئے ہیں اس پر ایمان رکھتا ہوں، اے اللہ کے رسول! بکریوں کا کیا بنے گا؟ کیونکہ یہ امانت ہے کسی کی ایک اور دو یا اس سے بھی زائد ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ان کے چہروں پر کنکریاں پھینک یہ بکریاں اپنے گھر والوں کے پاس واپس چلی جائیں گی۔“ اس نے کنکریوں یا مٹی کی ایک مٹھی لی اور ان بکریوں کی طرف پھینکی تو وہ بھاگتی ہوئی ہر بکری اپنے مالکوں کے پاس پہنچ گئی۔ پھر یہ شخص مجاہدین کی صف میں کھڑا ہوا تو ایک تیر لگنے کی وجہ سے یہ ہلاک ہوگیا اور اس نے اللہ کے لیے ایک سجدہ بھی نہ کیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کو خیمے میں داخل کر دو“ تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمے میں داخل کردیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے اس کے پاس آئے، پھر نکلے تو فرمایا: ”تمہارے ساتھی کا اسلام اچھا تھا، میں اس کے پاس گیا تو اس کی دو بیویاں حور العین سے اس کے پاس موجود تھیں۔“
میں نے اسے موصول (متصل سند کے ساتھ) صرف شرحبیل بن سعد کی روایت سے لکھا ہے، اور محدثین نے ان پر کلام کیا ہے۔ یہ محمد بن اسحاق بن یسار سے ان کے والد کے واسطے سے مرسل بھی مروی ہے، اور ابو العاص بن ربیع رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسا ایک قصہ مروی ہے، مگر وہ مرسل سند سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18424]
میں نے اسے موصول (متصل سند کے ساتھ) صرف شرحبیل بن سعد کی روایت سے لکھا ہے، اور محدثین نے ان پر کلام کیا ہے۔ یہ محمد بن اسحاق بن یسار سے ان کے والد کے واسطے سے مرسل بھی مروی ہے، اور ابو العاص بن ربیع رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسا ایک قصہ مروی ہے، مگر وہ مرسل سند سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18424]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 18424 in Urdu