السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3663. -- باب: المسلم يدل المشركين على عورة المسلمين
-- باب: اس مسلمان کا بیان جو مسلمانوں کے کمزور پہلوؤں اور خفیہ رازوں کی نشاندہی مشرکین کو کرے۔
حدیث نمبر: 18434
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِيِّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمِ بْنِ حَيَّانَ الطُّوسِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَالزُّبَيْرَ وَالْمِقْدَادَ فَقَالَ:" انْطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ فَإِنَّ بِهَا ظَعِينَةً مَعَهَا كِتَابٌ". فَخَرَجْنَا تَعَادَى بِنَا خَيْلُنَا، فَإِذَا ⦗٢٤٧⦘ نَحْنُ بِظَعِينَةٍ فَقُلْنَا: أَخْرِجِي الْكِتَابَ، فَقَالَتْ: مَا مَعِي كِتَابٌ، فَقُلْنَا لَهَا: لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ أَوْ لَتُلْقِينَّ الثِّيَابَ، فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ عِقَاصِهَا فَأَتَيْنَا بِهِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا فِيهِ: مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى أُنَاسٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ مِمَّنْ بِمَكَّةَ، يُخْبِرُ بِبَعْضِ أَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا هَذَا يَا حَاطِبُ"؟ قَالَ: لَا تَعْجَلْ عَلَيَّ، إِنِّي كُنْتُ امْرَأً مُلْصَقًا فِي قُرَيْشٍ وَلَمْ أَكُنْ مِنْ أَنْفُسِهَا، وَكَانَ مَنْ مَعَكَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ لَهُمْ قَرَابَاتٌ يَحْمُونَ بِهَا قَرَابَاتِهِمْ، وَلَمْ يَكُنْ لِي بِمَكَّةَ قَرَابَةٌ فَأَحْبَبْتُ إِذْ فَاتَنِي ذَلِكَ أَنْ أَتَّخِذَ عِنْدَهُمْ يَدًا، وَاللهِ مَا فَعَلْتُهُ شَكًّا فِي دِينِي وَلَا رِضًا بِالْكُفْرِ بَعْدَ الْإِسْلَامِ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ قَدْ صَدَقَ". فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللهِ دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللهَ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ". وَنَزَلَتْ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ} [الممتحنة: ١] . أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ جَمَاعَةٍ عَنْ سُفْيَانَ.
عبید اللہ بن ابی رافع سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اور سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کو روانہ فرمایا اور ہدایت فرمائی: ”تم روضہ خاخ نامی جگہ جاؤ، وہاں ایک مسافر عورت ہوگی جس کے پاس ایک خط ہے۔“ ہم نے اپنے گھوڑے دوڑائے اور جب وہاں پہنچے تو واقعی ایک عورت تھی۔ ہم نے اس سے کہا: ”خط نکالو۔“ وہ کہنے لگی: ”میرے پاس کوئی خط نہیں ہے۔“ ہم نے کہا: ”خط نکالو، وگرنہ ہم تلاشی لے کر تمہیں تنگ کریں گے۔“ تو اس نے اپنی مینڈھیوں (بالوں کی چوٹیوں) سے وہ خط نکال کر ہمیں دے دیا۔ ہم اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اس خط میں لکھا تھا کہ یہ حاطب بن ابی بلتعہ کی جانب سے مشرکینِ مکہ کے کچھ لوگوں کی طرف ہے، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض ارادوں کی خبر دی گئی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”اے حاطب! یہ کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ میرے بارے میں جلدی نہ فرمائیں، میں قریش میں محض ایک حلیف تھا، ان میں سے (اصلاً) نہ تھا، جبکہ آپ کے ساتھ جو مہاجرین ہیں، مکہ میں ان کی رشتہ داریاں ہیں جن کی وجہ سے وہ لوگ اپنے اہل و عیال اور اموال کی حفاظت کرتے ہیں۔ چونکہ مکہ میں میرا کوئی قریبی رشتہ دار نہیں تھا، اس لیے میں نے چاہا کہ ان پر کوئی احسان کر دوں (تاکہ وہ اس کے بدلے میرے رشتہ داروں کی حفاظت کریں)۔ اللہ کی قسم! میں نے یہ کام اپنے دین میں شک کرتے ہوئے یا اسلام کے بعد کفر کو پسند کرنے کی وجہ سے ہرگز نہیں کیا ہے۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے تم سے سچ کہا ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ عرض کرنے لگے: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اجازت دیں کہ میں اس منافق کی گردن اڑا دوں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جنگِ بدر میں شریک ہوا ہے، اور آپ کو کیا معلوم، اللہ رب العزت نے اہل بدر کے احوال سے واقف ہو کر فرما دیا ہے: «اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ» ”تم جو چاہو عمل کرو، یقیناً میں نے تمہیں معاف کر دیا ہے““ اور یہ آیت نازل ہوئی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ﴾ [سورة الممتحنة: 1]
”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، تم میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ کہ تم ان کی جانب محبت کے پیغام بھیجتے ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18434]
”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، تم میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ کہ تم ان کی جانب محبت کے پیغام بھیجتے ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18434]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 18434 in Urdu