السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3666. -- باب: بعث العيون والطلائع من المسلمين
-- باب: مسلمانوں کی طرف سے جاسوس اور ہراول دستے بھیجنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 18442
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، وَأَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ رَجُلٌ: لَوْ أَدْرَكْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاتَلْتُ مَعَهُ أَوْ أَبْلَيْتُ. فَقَالَ لَهُ حُذَيْفَةُ: أَنْتَ كُنْتَ تَفْعَلُ ذَاكَ؟ لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْأَحْزَابِ فِي لَيْلَةٍ ذَاتِ رِيحٍ شَدِيدَةٍ وَقَرٍّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا رَجُلٌ يَأْتِينِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ يَكُونُ مَعِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟" فَلَمْ يُجِبْهُ مِنَّا أَحَدٌ، ثُمَّ الثَّانِيَةَ مِثْلَهُ ثُمَّ قَالَ:" يَا حُذَيْفَةُ قُمْ فَأْتِنَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ"، فَلَمْ أَجِدْ بُدًّا إِذْ دَعَانِي بِاسْمِي أَنْ أَقُومَ، فَقَالَ:" ائْتِنِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ وَلَا تُذْعِرْهُمْ عَلَيَّ". قَالَ: فَمَضَيْتُ كَأَنَّمَا أَمْشِي فِي حَمَّامٍ حَتَّى أَتَيْتُهُمْ، فَإِذَا أَبُو سُفْيَانَ يُصْلِي ظَهْرَهُ بِالنَّارِ، فَوَضَعْتُ سَهْمِي فِي كَبِدِ قَوْسِي وَأَرَدْتُ أَنْ أَرْمِيَهُ، ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُذْعِرْهُمْ عَلَيَّ"، وَلَوْ رَمَيْتُ لَأَصَبْتُهُ قَالَ: فَرَجَعْتُ كَأَنَّمَا أَمْشِي فِي حَمَّامٍ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَصَابَنِي الْبَرْدُ حِينَ فَرَغْتُ وَقُرِرْتُ فَأَخْبَرْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَلْبَسَنِي رَسُولُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَضْلِ عَبَاءَةٍ كَانَتْ عَلَيْهِ يُصَلِّي فِيهَا، فَلَمْ أَزَلْ نَائِمًا حَتَّى الصُّبْحِ فَلَمَّا أَنْ أَصْبَحْتُ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُمْ يَا نَوْمَانُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
ابراہیم تیمی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما کے پاس تھے۔ ایک شخص نے کہا کہ اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پا لیتا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لڑتے ہوئے اپنے آپ کو بوڑھا کر لیتا، تو حذیفہ رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا تو یہ کام کرے گا؟ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ احزاب کی راتوں میں سے ایک رات کو سخت ہوا والی اور ٹھنڈی پایا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص مجھے قوم کی خبر لا کر دے، وہ قیامت کے دن میرے ساتھ ہو گا“ تو ہم میں سے کسی نے بھی جواب نہ دیا۔ پھر دوسری مرتبہ اسی طرح فرمایا، پھر فرمایا: ”اے حذیفہ! ہمارے پاس قوم کی خبر لے کر آؤ“۔ اب میرے پاس کوئی چارہ نہ تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام لے کر مجھے کھڑا ہونے کو کہا تو فرمایا: ”قوم کی خبر لاؤ تو ان کو میرے بارے میں خبر نہ دینا“۔ کہتے ہیں: میں گیا گویا کہ میں سکون سے چل رہا تھا۔ جب میں ابوسفیان کے قریب آیا تو وہ اپنی کمر کو آگ سے تاپ رہا تھا، میں نے اپنا تیر کمان میں رکھا اور اسے تیر مارنے کا ارادہ کیا، پھر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات یاد آ گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”ان کو میرے خلاف نہ بھڑکانا“، اگر میں اس کو تیر مارتا تو ہلاک کر سکتا تھا۔ کہتے ہیں: میں واپس آیا کہ میں گرمی کے اندر ہی چل رہا تھا۔ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا پھر مجھے ٹھنڈک محسوس ہوئی، جب میں اپنے کام سے فارغ ہو چکا تھا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر کا زائد حصہ میرے اوپر ڈال دیا، پھر میں صبح تک سویا رہا۔ جب میں نے صبح کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے سونے والے! اٹھ جا“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18442]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم ١٧٨٨»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 18442 in Urdu