🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
371. -- باب: الترجيع في الأذان
-- باب: اذان میں ترجیع (آواز لوٹانے اور دہرانے) کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1846
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، فِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ثنا الشَّافِعِيُّ، أنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ مُحَيْرِيزٍ، أَخْبَرَهُ وَكَانَ يَتِيمًا فِي حِجْرِ أَبِي مَحْذُورَةَ حَتَّى جَهَّزَهُ إِلَى الشَّامِ فَقُلْتُ لِأَبِي مَحْذُورَةَ: أَيْ عَمِّ إِنِّي خَارِجٌ إِلَى الشَّامِ وَإِنِّي أَخْشَى أَنْ أُسْأَلَ عَنْ تَأْذِينِكَ فَأَخْبِرْنِي فَقَالَ: نَعَمْ خَرَجْتُ فِي نَفَرٍ فَكُنَّا بِبَعْضِ طَرِيقِ حُنَيْنٍ فَقَفَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حُنَيْنٍ فَلَقِيَنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْنَا صَوْتَ الْمُؤَذِّنِ وَنَحْنُ مُتَنَكِّبُونَ فَصَرَخْنَا نَحْكِيهِ وَنَسْتَهْزِئُ بِهِ فَسَمِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا إِلَى أَنْ وَقَفْنَا بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّكُمُ الَّذِي سَمِعْتُ صَوْتَهُ قَدِ ارْتَفَعَ" فَأَشَارَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ إِلِيَّ وَصَدَّقُوا فَأَرْسَلَ كُلَّهُمْ وَحَبَسَنِي فَقَالَ:" قُمْ فَأَذِّنْ بِالصَّلَاةِ فَقُمْتُ وَلَا شَيْءَ أَكْرَهُ إِلِيَّ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا مِمَّا يَأْمُرُنِي بِهِ فَقُمْتُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَلْقَى عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّأْذِينَ هُوَ بِنَفْسِهِ فَقَالَ:" قُلِ: اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ" ثُمَّ قَالَ لِي:" ارْجِعْ فَامْدُدْ مِنْ صَوْتِكَ" ثُمَّ قَالَ:" قُلْ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، حِيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حِيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حِيَّ عَلَى الْفَلَاحَ، حِيَّ عَلَى الْفَلَاحَ، اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ" ثُمَّ دَعَانِي حِينَ قَضَيْتُ التَّأْذِينَ فَأَعْطَانِي صُرَّةً فِيهَا شَيْءٌ مِنْ فِضَّةٍ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى نَاصِيَةِ أَبِي مَحْذُورَةَ ثُمَّ أَمَرَّهَا عَلَى وَجْهِهِ ثُمَّ مِنْ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ ثُمَّ عَلَى كَبِدِهِ ثُمَّ بَلَغَتْ يَدُهُ سُرَّةَ أَبِي مَحْذُورَةَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَارَكَ اللهُ فِيكَ وَبَارَكَ عَلَيْكَ" فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مُرْنِي بِالتَّأْذِينِ بِمَكَّةَ فَقَالَ:" قَدْ أَمَرْتُكَ بِهِ" وَذَهَبَ كُلُّ شَيْءٍ كَانَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ كَرَاهِيَةٍ وَعَادَ ذَلِكَ كُلُّهُ مَحَبَّةً لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدِمْتُ عَلَى عَتَّابِ بْنِ أُسَيْدٍ عَامِلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذَّنْتُ بِالصَّلَاةِ عَنْ أَمْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابْنَ جُرَيْجٍ: وَأَخْبَرَنِي بِذَلِكَ مَنْ أَدْرَكْتُ مِنْ آلِ أَبِي مَحْذُورَةَ عَلَى نَحْوِ مَا أَخْبَرَنِي ابْنُ مُحَيْرِيزٍ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَأَدْرَكْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ يُؤَذِّنُ كَمَا حَكَى ابْنُ مُحَيْرِيزٍ وَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعْنَى مَا حَكَى ابْنُ جُرَيْجٍ وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَأَبُو عَاصِمٍ وَرَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ.
عبداللہ بن محیریز رحمہ اللہ فرماتے ہیں، وہ سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کی پرورش میں تھے: جب میں نے شام کی طرف تیاری کی تو میں نے سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے کہا: اے چچا! میں شام کی طرف جا رہا ہوں اور مجھے ڈر ہے کہ مجھ سے آپ کی اذان کے متعلق پوچھا جائے، اے ابو محذورہ! مجھے بتلائیے، انھوں نے فرمایا: ٹھیک ہے؛ میں ایک جماعت میں نکلا، ہم حنین کے راستے میں تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حنین سے واپس لوٹے تو ہمیں راستے میں ملے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن نے اذان دی، ہم نے مؤذن کی آواز سنی اور ہم ایک دوسرے کی جانب متوجہ تھے، ہم شور و غل مچا رہے تھے، اس کی حکایت بیان کرتے تھے اور اس کا مذاق اڑاتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو ہماری طرف کسی کو بھیجا یہاں تک کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کون ہے جس کی میں نے آواز سنی اس کی آواز اس قدر بلند تھی؟“ ساری قوم نے میری طرف اشارہ کیا اور انھوں نے سچ کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو چھوڑ دیا اور مجھے روک لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھڑے ہو جاؤ اور نماز کے لیے اذان کہو“ اور (اس وقت) میرے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور وہ چیز جس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا سب ناپسندیدہ تھیں۔
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بذاتِ خود مجھے اذان سکھائی اور فرمایا: ”کہو: «اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ» “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”دوبارہ لوٹا اور اپنی آواز کو بلند کر“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہو: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» “۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا جس وقت میں نے اذان پوری کرلی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو ایک تھیلی دی جس میں چاندی کی کوئی چیز تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میری پیشانی پر رکھا، اور اس کو اس کے چہرے سے گزارا پھر میرے پستانوں کے درمیان سے، پھر میرے جگر سے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ میرے پیٹ تک پہنچ گیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تجھ میں برکت ڈالے اور تجھ پر برکت ڈالے“، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھ کو مکہ میں اذان دینے کی اجازت دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے آپ کو اجازت دے دی“۔ تو ہر وہ چیز چلی گئی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجھے ناپسندیدہ تھی اور تمام کی تمام محبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے لوٹ آئی، میں عتاب بن اسید کے سامنے کھڑا ہوا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عامل تھے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے نماز کی اذان کہی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1846]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه النسائي 632»

الحكم على الحديث: حسن

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 1846 in Urdu