🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3673. -- باب: كراهية تمني لقاء العدو وما يفعل وما يقول عند اللقاء
-- باب: دشمن سے مڈبھیڑ کی تمنا کرنے کی کراہت، اور جب سامنا ہو جائے تو کیا عمل کرے اور کیا کہے، اس کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18464
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ أَبِي قُمَاشٍ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ عِيسَى، أنبأ سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ عَائِشَةَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، كِلَاهُمَا عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ صُهَيْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ بِشَيْءٍ لَا يُفْهَمُ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّكَ تُحَرِّكُ شَفَتَيْكَ بِشَيْءٍ لَا يُفْهَمُ، فَقَالَ:" إِنَّ نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ أَعْجَبَهُ كَثْرَةُ قَوْمِهِ، فَقَالَ: مَنْ يَفِي لِهَؤُلَاءِ أَوْ مَنْ يَقُومُ لِهَؤُلَاءِ؟ قَالَ: فَقِيلَ لَهُ خَيِّرْ أَصْحَابَكَ بَيْنَ أَنْ نُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا فَيَسْتَبِيحَ بَيْضَتَهُمْ أَوِ الْجُوعَ أَوِ الْمَوْتَ فَخَيَّرَهُمْ فَاخْتَارُوا الْمَوْتَ، قَالَ: فَمَاتَ مِنْهُمْ فِي ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ سَبْعُونَ أَلْفًا. قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَأَنَا أَقُولُ: اللهُمَّ بِكَ أُقَاتِلُ، وَبِكَ أُحَاوِلُ، وَبِكَ أُصَاوِلُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ" وَسَائِرُ مَا وَرَدَ مِنَ الدُّعَاءِ فِي هَذَا قَدْ مَضَى فِي كِتَابِ الْحَجِّ وَفِي كِتَابِ الدَّعَوَاتِ.
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہونٹوں کو حرکت دیتے تھے لیکن ہم اس کو سمجھ نہ پاتے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ہونٹوں کو کسی چیز سے حرکت دیتے ہیں لیکن ہم سمجھ نہیں پاتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی قوم کی کثرت اچھی لگی، اس نے کہا کہ کون ان کے مقابلے میں کھڑا ہوگا؟ فرماتے ہیں کہ اس سے کہا گیا: اپنے ساتھیوں کو اختیار دے دو کہ یا تو ہم ان پر دشمن کو مسلط کر دیں جو ان کی جمعیت کو تباہ کر دے، یا بھوک، یا موت۔ اس نے انہیں اختیار دیا تو انہوں نے موت کو پسند کیا تو تین ایام کے اندر ستر ہزار آدمی مارے گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو یہ کہتا ہوں: «اللَّهُمَّ بِكَ أُقَاتِلُ، وَبِكَ أُحَاوِلُ، وَبِكَ أُصَاوِلُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» ”اے اللہ! تیری مدد سے میں قتال کرتا ہوں اور تیری توفیق سے معاملات کی تدبیر کرتا ہوں اور تیری توفیق سے مقابلہ کرتا ہوں اور برائی سے پھرنے اور نیکی کرنے کی قوت تیری توفیق سے ہے۔“““ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18464]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 18464 in Urdu