🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3684. -- باب: في فضل الجهاد في سبيل الله
-- باب: اللہ کی راہ میں جہاد کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18507
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا أَبُو الْجَمَاهِرِ، ثنا الْهَيْثَمُ، يَعْنِي ابْنَ حُمَيْدٍ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ائْذَنْ لِي فِي الزِّنَى. قَالَ: فَهَمَّ مَنْ كَانَ قُرْبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَنَاوَلُوهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَعُوهُ". ثُمَّ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ادْنُهْ، أَتُحِبُّ أَنْ يُفْعَلَ ذَلِكَ بِأُخْتِكَ؟" قَالَ: لَا. قَالَ:" فَبِابْنَتِكَ"؟ قَالَ: لَا. فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُ بِكَذَا وَكَذَا، كُلَّ ذَلِكَ يَقُولُ لَا، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَاكْرَهْ مَا كَرِهَ اللهُ وَأَحِبَّ لِأَخِيكَ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ". قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ فَادْعُ اللهَ أَنْ يُبَغِّضَ إِلِيَّ النِّسَاءَ. قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللهُمَّ بَغِّضْ إِلَيْهِ النِّسَاءَ". قَالَ: فَانْصَرَفَ الرَّجُلُ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ بَعْدَ لَيَالٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا مِنْ شَيْءٍ أَبْغَضُ إِلِيَّ مِنَ النِّسَاءِ فَائْذَنْ لِي بِالسِّيَاحَةِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ سِيَاحَةَ أُمَّتِي الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ".
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے (بدکاری) کی اجازت طلب کی۔ راوی کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب بیٹھے ہوئے افراد نے اس کو پکڑنے کی کوشش کی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے چھوڑ دو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب ہوجاؤ، کیا آپ کو یہ پسند ہے کہ آپ کی بہن سے زنا کیا جائے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تیری بیٹی سے؟“ راوی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بار بار اسے یہ کہتے رہے تو وہ ہر مرتبہ نفی میں جواب دیتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو بھی ناپسند کر اس بات کو جس کو اللہ ناپسند کرتے ہیں اور اپنے بھائی کے لیے بھی وہی پسند کر جو تو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔“ اس شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اللہ سے دعا کریں کہ اللہ میرے دل میں عورتوں سے نفرت پیدا کر دے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ ابْغِضْهُنَّ إِلَيْهِ» ”اے اللہ! تو عورتوں کو اس کے لیے متنفر فرما۔“ راوی کہتے ہیں کہ چند دنوں کے بعد وہ پھر واپس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! عورتوں سے زیادہ بری چیز میرے نزدیک کوئی نہیں، اب آپ مجھے سیر و تفریح کی اجازت دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کی سیر و سیاحت جہاد فی سبیل اللہ میں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18507]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 18507 in Urdu