🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3694. -- باب: من يسلم فيقتل مكانه في سبيل الله
-- باب: اس شخص کا بیان جو اسلام لائے اور اسی وقت اللہ کی راہ میں شہید ہو جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18543
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٢٨٢⦘ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ عَمْرَو بْنَ أُقَيْشٍ كَانَ لَهُ رِبًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَكَرِهَ أَنْ يُسْلِمَ حَتَّى يَأْخُذَهُ، فَجَاءَ يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ: أَيْنَ بَنُو عَمِّي؟ فَقَالُوا: بِأُحُدٍ، فَقَالَ: أَيْنَ فُلَانٌ؟ قَالُوا: بِأُحُدٍ، قَالَ: أَيْنَ فُلَانٌ؟ قَالُوا: بِأُحُدٍ، فَلَبِسَ لَأْمَتَهُ وَرَكِبَ فَرَسَهُ ثُمَّ تَوَجَّهَ قِبَلَهُمْ، فَلَمَّا رَآهُ الْمُسْلِمُونَ قَالُوا: إِلَيْكَ عَنَّا يَا عَمْرُو. فَقَالَ: إِنِّي قَدْ آمَنْتُ. فَقَاتَلَ حَتَّى جُرِحَ، فَحُمِلَ إِلَى أَهْلِهِ جَرِيحًا، فَجَاءَهُ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فَقَالَ لِأُخْتِهِ: سَلِيهِ حَمِيَّةً لِقَوْمِكَ أَمْ غَضَبًا لَهُمْ أَمْ غَضَبًا لِلَّهِ وَرَسُولِهِ؟ فَقَالَ: بَلْ غَضَبًا لِلَّهِ وَرَسُولِهِ. فَمَاتَ فَدَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَا صَلَّى لِلَّهِ صَلَاةً.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عمرو بن اقیس کا جاہلیت کا سود تھا، صرف سود کی وجہ سے وہ اسلام قبول نہ کر سکے۔ احد کے دن وہ آئے اور کہنے لگے: میرے چچا کا بیٹا کدھر ہے؟ انہوں نے کہا: احد میں۔ پھر اس نے پوچھا: فلاں کہاں ہے؟ انہوں نے کہا: وہ بھی احد میں ہے۔ اس نے پھر پوچھا: فلاں کدھر ہے؟ انہوں نے کہا: وہ بھی غزوہ احد میں ہے۔ اس نے زرہ پہنی اور گھوڑے پر سوار ہو کر ان کی جانب متوجہ ہوا۔ جب مسلمانوں نے دیکھا تو کہنے لگے: اے عمرو رضی اللہ عنہ! ہم سے دور رہنا۔ اس نے کہا: میں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ پھر وہ لڑائی کرتے ہوئے زخمی ہو گئے تو انہیں زخمی حالت میں لایا گیا۔ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے اپنی بہن سے کہا: پوچھو قومی غیرت اور ان کے لیے غصے میں آکر لڑا یا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے؟ اس نے کہا: نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے۔ وہ فوت ہو کر جنت میں داخل ہو گئے اور انہوں نے ایک بھی نماز نہ پڑھی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18543]

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 18543 in Urdu