السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3719. -- باب: من قال تؤخذ منهم الجزية عربا كانوا أو عجما
-- باب: اس شخص کے قول کا بیان کہ ان سے جزیہ لیا جائے گا خواہ وہ عرب ہوں یا عجم۔
حدیث نمبر: 18642
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى أُكَيْدِرَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، رَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ، كَانَ مَلِكًا عَلَى دُومَةَ، وَكَانَ نَصْرَانِيًّا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَالِدٍ:" إِنَّكَ سَتَجِدُهُ يَصِيدُ الْبَقَرَ"، فَخَرَجَ خَالِدٌ حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ حِصْنِهِ مَنْظَرَ الْعَيْنِ، وَفِي لَيْلَةٍ مُقْمِرَةٍ صَافِيَةٍ وَهُوَ عَلَى سَطْحٍ وَمَعَهُ امْرَأَتُهُ، فَأَتَتِ الْبَقَرُ تَحُكُّ بِقُرُونِهَا بَابَ الْقَصْرِ، فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ: هَلْ رَأَيْتَ مِثْلَ هَذَا قَطُّ؟ قَالَ: لَا وَاللهِ، قَالَتْ: فَمَنْ يَتْرُكُ مِثْلَ هَذَا؟ قَالَ: لَا أَحَدَ، فَنَزَلَ فَأَمَرَ بِفَرَسِهِ فَأُسْرِجَ ⦗٣١٥⦘ وَرَكِبَ مَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ، فِيهِمْ أَخٌ لَهُ يُقَالُ لَهُ حَسَّانُ، فَخَرَجُوا مَعَهُ بِمَطَارِفِهِمْ، فَتَلَقَّاهُمْ خَيْلُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَتْهُ وَقَتَلُوا أَخَاهُ حَسَّانَ، وَكَانَ عَلَيْهِ قُبَاءُ دِيبَاجٍ مَخُوصٍ بِالذَّهَبِ، فَاسْتَلَبَهُ إِيَّاهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَبَعَثَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ قُدُومِهِ عَلَيْهِ، ثُمَّ إِنَّ خَالِدًا قَدِمَ بِالْأُكَيْدِرِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَقَنَ لَهُ دَمَهُ وَصَالَحَهُ عَلَى الْجِزْيَةِ وَخَلَّى سَبِيلَهُ، فَرَجَعَ إِلَى قَرْيَتِهِ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَأَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجِزْيَةَ مِنْ أَهْلِ ذِمَّةِ الْيَمَنِ، وَعَامَّتُهُمْ عَرَبٌ، وَمَنْ أَهْلِ نَجْرَانَ وَفِيهِمْ عَرَبٌ.
یزید بن رومان اور حضرت عبداللہ بن ابی بکر رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو اکیدر بن عبد الملک، جو دومہ کا عیسائی بادشاہ اور کندہ کا ایک فرد تھا، کی جانب روانہ کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تُو اس کو گائے کا شکار کرتے ہوئے پائے گا۔“ جب خالد رضی اللہ عنہ اس کے قلعہ پر پہنچے تو چاندنی رات میں وہ اپنی بیوی کے ساتھ چھت پر موجود تھا، گائے نے آ کر محل کے دروازے کے ساتھ خارش کرنا شروع کر دی تو اس کی بیوی نے کہا: کیا آپ نے اس جیسا کبھی دیکھا ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ اس کی بیوی نے کہا: اس جیسے کو کون چھوڑے گا؟ اس نے کہا: کوئی بھی نہیں۔ تو وہ نیچے اترا اور گھوڑے لانے کا حکم دیا۔ پھر وہ اپنے گھر والوں کے درمیان، جس میں اس کا بھائی حسان بھی تھا، نکلا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک گروہ نے انہیں پکڑ لیا اور اس کے بھائی حسان کو قتل کر دیا۔ اس پر ریشمی قباء تھی جس پر سونے کا کام ہوا تھا، تو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے سے پہلے اسے روانہ کر دیا۔ پھر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اکیدر کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خون معاف کر دیا اور جزیہ پر صلح کر لی اور اسے واپس جانے کی اجازت دے دی۔
شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کے ذمیوں سے، جن میں سے اکثر عرب تھے، اور اہل نجران سے، جن میں عرب بھی تھے، جزیہ وصول کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18642]
شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کے ذمیوں سے، جن میں سے اکثر عرب تھے، اور اہل نجران سے، جن میں عرب بھی تھے، جزیہ وصول کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18642]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 18642 in Urdu