🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3720. -- باب: من زعم أنما تؤخذ الجزية من العجم
-- باب: اس شخص کے دعوے کا بیان کہ جزیہ صرف عجمیوں سے لیا جائے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18648
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُوَيْدٍ، ثنا مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ النَّهْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: عَادَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا طَالِبٍ وَعِنْدَهُ نَاسٌ مِنْ قُرَيْشٍ، وَعِنْدَ رَأْسِهِ مَقْعَدُ رَجُلٍ، فَلَمَّا رَآهُ أَبُو جَهْلٍ قَامَ فَجَلَسَ فَقَالَ: ابْنُ أَخِيكَ يَذْكُرُ آلِهَتَنَا، فَقَالَ أَبُو طَالِبٍ: مَا شَأْنُ قَوْمِكَ يَشْكُونَكَ؟ قَالَ:" يَا عَمِّ أُرِيدُهُمْ عَلَى كَلِمَةٍ يَدِينُ لَهُمُ الْعَرَبُ وَتُؤَدِّي إِلَيْهِمُ الْعَجَمُ الْجِزْيَةَ". قَالَ: مَا هِيَ؟ قَالَ:" شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ". فَقَامُوا وَقَالُوا: أَجَعَلَ ⦗٣١٧⦘ الْآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا؟ قَالَ: وَنَزَلَ: {ص وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ} [ص: ١] حَتَّى إِذَا بَلَغَ: {إِنَّ هَذَا لِشَيْءٌ عُجَابٌ} [ص: ٥] لَفْظُ حَدِيثِ الْمُقْرِئُ.
سعید بن جبیر رحمہ اللہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طالب کی تیمارداری فرمائی۔ اس وقت ان کے پاس قریشی لوگ تھے اور ان کے سرہانے ایک آدمی کے بیٹھنے کی جگہ تھی۔ جب ابو جہل نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو اٹھ کر اس جگہ بیٹھ گیا اور کہنے لگا: آپ کا بھتیجا ہمارے معبودوں کا تذکرہ کرتا تھا، تو ابو طالب نے کہا: آپ کی قوم کو کیا ہوا کہ وہ آپ کی شکایت کر رہی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے چچا! میں ان سے ایک ایسی بات چاہتا ہوں جس کے ذریعے اہل عرب ان کے تابع ہو جائیں گے اور عجم والے ان کو جزیہ دیں گے۔“ پوچھا: کون سی بات؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس بات کی گواہی دے دیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔“ تو انہوں نے کہا: کیا آپ نے صرف ایک ہی معبود بنا دیا؟ پھر سورہ ص کی آیات نازل ہوئیں: ﴿صٓ وَالْقُرْاٰنِ ذِی الذِّکْرِ﴾ [سورة ص: 1] سے ﴿إِنَّ هٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ﴾ [سورة ص: 5] تک۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18648]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 18648 in Urdu