🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3744. -- باب: لا يسكن أرض الحجاز مشرك
-- باب: سرزمینِ حجاز میں کوئی مشرک رہائش پذیر نہیں ہوگا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18745
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا الْمَرَّارُ بْنُ حَمُّويَهِ الْهَمَذَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْكِنَانِيُّ، قَالَ مُوسَى: وَهُوَ أَبُو غَسَّانَ الْكِنَانِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: لَمَّا فُدِعْتُ بِخَيْبَرَ قَامَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَطِيبًا فِي النَّاسِ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَلَ يَهُودَ خَيْبَرَ عَلَى أَمْوَالِهَا وَقَالَ:" نُقِرُّكُمْ مَا أَقَرَّكُمُ اللهُ"، وَإِنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ خَرَجَ إِلَى مَالِهِ هُنَاكَ فَعُدِيَ عَلَيْهِ فِي اللَّيْلِ فَفُدِعَتْ يَدَاهُ وَلَيْسَ لَنَا عَدُوٌّ هُنَاكَ غَيْرَهُمْ وَهُمْ تُهْمَتُنَا، وَقَدْ رَأَيْتُ إِجْلَاءَهُمْ. فَلَمَّا أَجْمَعَ عَلَى ذَلِكَ أَتَاهُ أَحَدُ بَنِي أَبِي الْحُقَيْقِ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، تُخْرِجُنَا وَقَدْ أَقَرَّنَا مُحَمَّدٌ وَعَامَلَنَا عَلَى الْأَمْوَالِ وَشَرَطَ ذَلِكَ لَنَا؟ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَظَنَنْتَ أَنِّي نَسِيتُ قَوْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَيْفَ بِكَ إِذَا أُخْرِجْتَ مِنْ خَيْبَرَ تَعْدُو بِكَ قَلُوصُكَ لَيْلَةً بَعْدَ لَيْلَةٍ". فَأَجْلَاهُمْ وَأَعْطَاهُمْ قِيمَةَ مَالِهِمْ مِنَ الثَّمَرِ مَالًا وَإِبِلًا وَعُرُوضًا مِنْ أَقْتَابٍ وَحِبَالٍ وَغَيْرَ ذَلِكَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي أَحْمَدَ وَهُوَ مَرَّارُ بْنُ حَمُّويَهِ.
نافع رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ جب خیبر میں میرا جوڑ ٹوٹ گیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے خطبہ ارشاد فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کو ان کے مالوں پر عامل بنایا تھا اور فرمایا: ”میں نے تمہیں برقرار رکھا جب تک اللہ نے تمہیں برقرار رکھا۔“ جب سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے مال لے کر نکلے تو ان پر رات کے وقت زیادتی کی گئی، جس کی بنا پر ان کا جوڑ ٹوٹ گیا، ان کے علاوہ ہمارا کوئی دشمن بھی نہ تھا اور وہی ہمارے ملزم تھے۔ میں نے ان کو جلا وطن کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا پختہ ارادہ کر لیا تو بنو ابوالحقیق کا ایک فرد آیا، اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! کیا آپ ہمیں نکال رہے ہیں، حالانکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے مالوں پر عامل بنایا تھا اور ہمیں یہاں برقرار رکھا تھا؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا تیرا خیال ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بھول گیا ہوں؟ تمہاری حالت کیا ہوگی، جب تمہیں خیبر سے نکالا جائے گا اور تیری جوان اونٹنی تجھے یکے بعد دیگرے کئی راتیں چلے گی۔“ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو جلا وطن کیا اور ان کے پھلوں کی قیمت کے بدلے مال، اونٹ، سامان پالان اور رسیاں وغیرہ دے دیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18745]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 18745 in Urdu