السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3750. -- باب: الحربي إذا لجأ إلى الحرم وكذلك من وجب عليه حد
-- باب: حربی کافر جب حرم میں پناہ لے لے، اور اسی طرح وہ شخص جس پر کوئی حد واجب ہو، اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 18785
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَطَّةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا الْوَاقِدِيُّ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ الْوَاقِدِيُّ: وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَبِي عَوْنٍ، وَزَادَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، فَذَكَرَ قِصَّةً فِي بَعْثِ أَبِي سُفْيَانَ مَنْ يَقْتُلُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غِيلَةً، وَأَنَّ اللهَ تَعَالَى أَطْلَعَ عَلَيْهِ نَبِيَّهُ، وَأَسْلَمَ الرَّجُلُ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ وَسَلَمَةَ بْنِ أَسْلَمَ بْنِ حَرِيشٍ:" اخْرُجَا حَتَّى تَأْتِيَا أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ، فَإِنْ أَصَبْتُمَا مِنْهُ غِرَّةً فَاقْتُلَاهُ". ثُمَّ ذَكَرَ قِصَّةً فِي رُؤْيَةِ مُعَاوِيَةَ عَمْرًا وَإِخْبَارِهِ إِيَّاهُ بِذَلِكَ، وَأَنَّ عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ وَسَلَمَةَ بْنَ أَسْلَمَ أَسْنَدَا فِي الْجَبَلِ وَتَغَيَّبَا فِي غَارٍ، ثُمَّ إِنَّ عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ خَرَجَ فَقَتَلَ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ مَالِكٍ ابْنَ أَخِي طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، وَجَاءَ إِلَى خُبَيْبِ بْنِ عَدِيٍّ وَهُوَ مَصْلُوبٌ فَأَنْزَلَهُ وَأَهَالَ عَلَيْهِ التُّرَابَ، ثُمَّ ذَكَرَ رُجُوعَهُمَا مُنْفَرِدَيْنِ إِلَى الْمَدِينَةِ.
عبد الواحد بن ابی عون رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بعض نے کچھ الفاظ زائد بیان کیے ہیں اور ابوسفیان کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دھوکا سے قتل کرنے کا قصہ ذکر کیا ہے۔ اللہ رب العزت نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دے دی، تو قتل کے ارادے سے آنے والا شخص مسلمان ہو گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن امیہ ضمری اور سلمہ بن اسلم بن حریش رضی اللہ عنہما سے فرمایا: ”تم ابوسفیان بن حرب کے پاس جاؤ، اگر تم اسے غافل پاؤ تو قتل کر دینا۔“
(ب) پھر انہوں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کے عمرو رضی اللہ عنہ کو دیکھ لینے اور اپنے باپ کو اس کی خبر دینے کا قصہ ذکر کیا ہے کہ عمرو بن امیہ اور سلمہ بن اسلم رضی اللہ عنہما پہاڑ پر چڑھ کر غار میں چھپ گئے، تو عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ نے غار سے نکل کر عبید اللہ بن مالک کو، جو طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کے بھتیجے تھے، قتل کر دیا۔ پھر خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، انہیں سولی سے اتار کر ان پر مٹی ڈال دی، پھر وہ دونوں اکیلے اکیلے مدینہ کی طرف لوٹ آئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18785]
(ب) پھر انہوں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کے عمرو رضی اللہ عنہ کو دیکھ لینے اور اپنے باپ کو اس کی خبر دینے کا قصہ ذکر کیا ہے کہ عمرو بن امیہ اور سلمہ بن اسلم رضی اللہ عنہما پہاڑ پر چڑھ کر غار میں چھپ گئے، تو عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ نے غار سے نکل کر عبید اللہ بن مالک کو، جو طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کے بھتیجے تھے، قتل کر دیا۔ پھر خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، انہیں سولی سے اتار کر ان پر مٹی ڈال دی، پھر وہ دونوں اکیلے اکیلے مدینہ کی طرف لوٹ آئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18785]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 18785 in Urdu