السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3755. -- باب: المهادنة على النظر للمسلمين
-- باب: مسلمانوں کی مصلحت کے پیشِ نظر جنگ بندی (صلح) کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 18808
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَتَّابٍ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، فَذَكَرَ مَعْنَى هَذِهِ الْقِصَّةِ، زَادَ: ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِيُرْسِلَهُ إِلَى قُرَيْشٍ وَهُوَ بِبَلْدَحَ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللهِ لَا تُرْسِلْنِي إِلَيْهِمْ فَإِنِّي أَتَخَوَّفُهُمْ عَلَى نَفْسِي، وَلَكِنْ أَرْسِلْ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ. فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ فَلَقِيَ أَبَانَ بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ فَأَجَارَهُ وَحَمَلَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ عَلَى الْفَرَسِ حَتَّى جَاءَ قُرَيْشًا، فَكَلَّمَهُمْ بِالَّذِي أَمَرَهُ ⦗٣٧١⦘ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلُوا مَعَهُ سُهَيْلَ بْنَ عَمْرٍو لِيُصَالِحَهُ عَلَيْهِمْ، وَبِمَكَّةَ يَوْمَئِذٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ نَاسٌ كَثِيرٌ مِنْ أَهْلِهَا، فَدَعَوْا عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِيَطُوفَ بِالْبَيْتِ فَأَبَى أَنْ يَطُوفَ وَقَالَ: مَا كُنْتُ لِأَطُوفَ بِهِ حَتَّى يَطُوفَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو وَقَدْ أَجَارَهُ لِيُصَالِحَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ قِصَّةَ الصُّلْحِ وَكِتَابَتِهِ. قَالَ: ثُمَّ بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْكِتَابِ إِلَى قُرَيْشٍ مَعَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ثُمَّ ذَكَرَ قِصَّةً فِيمَا كَانَ بَيْنَ الْفَرِيقَيْنِ مِنَ التَّرَامِي بِالْحِجَارَةِ وَالنَّبْلِ، وَارْتِهَانِ الْمُشْرِكِينَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَارْتِهَانِ الْمُسْلِمِينَ سُهَيْلَ بْنَ عَمْرٍو، وَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمِينَ إِلَى الْبَيْعَةِ، فَلَمَّا رَأَتْ قُرَيْشٌ ذَلِكَ رَعَبَهُمُ اللهُ، فَأَرْسَلُوا مَنْ كَانُوا ارْتَهَنُوهُ، وَدَعَوْا إِلَى الْمُوَادَعَةِ وَالصُّلْحِ، فَصَالَحَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَاتَبَهُمْ.
اسماعیل بن ابراہیم بن عقبہ اپنے چچا موسیٰ بن عقبہ سے اس قصہ کے ہم معنیٰ نقل فرماتے ہیں، اس میں کچھ زیادہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو قریش کی طرف بھیجنے کے لیے بلایا جب وہ بلدح نامی جگہ پر تھے، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اپنی جان کا خوف ہے۔ آپ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو بھیج دیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا۔ جب ان کی ملاقات ابان بن سعید سے ہوئی تو اس نے پناہ دے کر اپنے گھوڑے کی اگلی جانب سوار کر کے قریش کے پاس لایا تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق قریش سے بات کی، قریش نے سہیل بن عمرو کو صلح کے لیے روانہ کر دیا، اس وقت مکہ میں مکہ والوں میں سے بہت سے مسلمان تھے، جنہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بیت اللہ کے طواف کی دعوت دی تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر طواف کرنے سے انکار کر دیا، وہ سہیل بن عمرو کو ساتھ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تاکہ صلح کر سکیں، اس نے صلح کا قصہ اور معاہدہ کی تحریر کا تذکرہ کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو معاہدہ کی تحریر دے کر روانہ کیا، پھر اس نے دونوں فریقوں کے درمیان پتھروں اور تیروں کے تبادلے، مشرکین کے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو یرغمال بنا لینے اور مسلمانوں کے سہیل بن عمرو کو یرغمال بنا لینے کا تذکرہ کیا۔
پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو بیعت کی جانب بلایا، جب قریش نے یہ دیکھا تو ان کے دل میں اللہ نے رعب ڈال دیا تو انہوں نے جن کو یرغمال بنا رکھا تھا انہیں چھوڑ دیا اور آپ کو صلح کی دعوت دی۔ آپ نے ان سے صلح کی اور معاہدہ تحریر کروا دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18808]
پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو بیعت کی جانب بلایا، جب قریش نے یہ دیکھا تو ان کے دل میں اللہ نے رعب ڈال دیا تو انہوں نے جن کو یرغمال بنا رکھا تھا انہیں چھوڑ دیا اور آپ کو صلح کی دعوت دی۔ آپ نے ان سے صلح کی اور معاہدہ تحریر کروا دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18808]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 18808 in Urdu