السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3757. -- باب: نزول سورة الفتح على رسول الله صلى الله عليه وسلم مرجعه من الحديبية
-- باب: حدیبیہ سے واپسی پر رسول اللہ ﷺ پر سورۃ الفتح کے نزول کا بیان۔
حدیث نمبر: 18813
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي عِيسَى، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ سِيَاهٍ، ح قَالَ: ⦗٣٧٣⦘ وَأَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، نا أَبُو يَعْلَى، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ سِيَاهٍ، ثنا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: قَامَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمَ صِفِّينَ فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ اتَّهِمُوا أَنْفُسَكُمْ، لَقَدْ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ وَلَوْ نَرَى قِتَالًا لَقَاتَلْنَا، وَذَلِكَ فِي الصُّلْحِ الَّذِي كَانَ بَيْنَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ، قَالَ: فَأَتَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلَسْنَا عَلَى حَقٍّ وَهُمْ عَلَى بَاطِلٍ؟ قَالَ:" بَلَى"، قَالَ: أَلَيْسَ قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ وَقَتْلَاهُمْ فِي النَّارِ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَفِيمَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي أَنْفُسِنَا وَنَرْجِعُ وَلَمَّا يَحْكُمِ اللهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ؟ قَالَ:" يَا ابْنَ الْخَطَّابِ إِنِّي رَسُولُ اللهِ وَلَنْ يُضَيِّعَنِي اللهُ". قَالَ: فَانْطَلَقَ ابْنُ الْخَطَّابِ وَلَمْ يَصْبِرْ مُتَغَيِّظًا فَأَتَى أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ أَلَسْنَا عَلَى حَقٍّ وَهُمْ عَلَى بَاطِلٍ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: أَلَيْسَ قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ وَقَتْلَاهُمْ فِي النَّارِ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَعَلَامَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا وَنَرْجِعُ وَلَمَّا يَحْكُمِ اللهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ؟ قَالَ: يَا ابْنَ الْخَطَّابِ إِنَّهُ رَسُولُ اللهِ، وَلَنْ يُضَيِّعَهُ اللهُ أَبَدًا. قَالَ: فَنَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَى مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ إِلَى عُمَرَ فَأَقْرَأَهُ إِيَّاهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَوَفَتْحٌ هُوَ؟ قَالَ:" نَعَمْ". قَالَ: فَطَابَتْ نَفْسُهُ وَرَجَعَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ إِسْحَاقَ السُّلَمِيِّ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عُبَيْدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَمَا كَانَ فِي الْإِسْلَامِ فَتْحٌ أَعْظَمَ مِنْهُ، كَانَتِ الْحَرْبُ قَدْ أَجْحَرَتِ النَّاسَ، فَلَمَّا آمَنُوا لَمْ يُكَلَّمْ بِالْإِسْلَامِ أَحَدٌ يَعْقِلُ إِلَّا قَبِلَهُ، فَلَقَدْ أَسْلَمَ فِي سَنَتَيْنِ مِنْ تِلْكَ الْهُدْنَةِ أَكْثَرُ مِمَّنْ أَسْلَمَ قَبْلَ ذَلِكَ.
ابو وائل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سہیل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے صفین کے دن کہا: اے لوگو! اپنے اوپر الزام لگاؤ۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حدیبیہ میں موجود تھے۔ اگر لڑائی ہوتی ہم ضرور لڑتے لیکن یہ مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان صلح تھی، تو اس وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم حق پر اور وہ باطل پر نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم حق پر اور دشمن باطل پر ہیں۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا ہمارے مقتول جنت اور ان کے مقتول جہنم میں نہ جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے مقتول جنتی اور ان کے جہنمی ہیں۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر ہم کمزوری کیوں دکھا رہے ہیں، جب کہ اللہ ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ فرما دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابن خطاب! میں اللہ کا رسول ہوں، اللہ مجھے ضائع نہ کریں گے۔“ راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ غصہ کی حالت میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس چلے گئے اور کہا: اے ابوبکر رضی اللہ عنہ! کیا ہم حق پر اور وہ باطل پر نہیں؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ہم حق پر اور وہ باطل پر ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا ہمارے مقتول جنت میں اور ان کے جہنم میں نہ جائیں گے؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہمارے مقتول جنتی اور ان کے جہنمی ہیں، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر ہم اپنے دین کے بارے میں کمزوری کیوں دکھا رہے ہیں، حالانکہ ابھی تک اللہ نے ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ بھی نہیں فرمایا؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابن خطاب! وہ اللہ کے نبی ہیں، اللہ انہیں ضائع نہ کرے گا۔ راوی کہتے ہیں کہ اللہ نے قرآن نازل کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بلا کر سنایا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ فتح ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ فتح ہے۔“ راوی کہتے ہیں: پھر وہ خوشی خوشی واپس چلے گئے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن شہاب رحمہ اللہ نے فرمایا: اسلام میں اس سے بڑی فتح کوئی نہ تھی، جب لوگوں کی لڑائی ختم ہوگئی۔ پھر کوئی عقل مند انسان اسلام کی بات سن کر قبول کیے بغیر نہ رہا، دو سال صلح کی مدت میں جتنے مسلمان ہوئے اس سے پہلے نہ ہوئے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18813]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن شہاب رحمہ اللہ نے فرمایا: اسلام میں اس سے بڑی فتح کوئی نہ تھی، جب لوگوں کی لڑائی ختم ہوگئی۔ پھر کوئی عقل مند انسان اسلام کی بات سن کر قبول کیے بغیر نہ رہا، دو سال صلح کی مدت میں جتنے مسلمان ہوئے اس سے پہلے نہ ہوئے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18813]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 18813 in Urdu